Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on May 29, 2016 in Articles | 0 comments

سچے انقلابی ماما مہندو   تحریر : مہراب مہر

سچے انقلابی ماما مہندو تحریر : مہراب مہر

سچے انقلابی ماما مہندو تحریر : مہراب مہر
آزادی کے سفر میں ہزاروں لوگ ہمقدم ہوتے ہیں ہزاروں راستے تبدیل کرتے ہیں ہزاروں ظلم و جبر کا شکار ہوتے ہیں ہزاروں بچھڑ جاتے ہیں ہزاروں موت کے محبوب سے ملتے ہیں موت کرب ہے اس کرب کو برداشت کرنے کی سکت بہت ہی ازیت ناک اس وقت ہوتی ہے جب آپ کا اپناکوئی موت کے گلے ملتا ہے دنیا میں بہ یک وقت صدیوں لوگ مرتے ہیں لیکن ان کی دکھ و تکلیف کا اندازہ آپ کو ہرگز نہیں ہوتاکیونکہ ان سے آپ کا کوئی مخصوص رشتہ نہیں ہوتا لیکن دنیا میں کچھ ایسے نامور لوگ جب موت کے آغوش میں جاتے ہیں تو انکی موت پوری دنیا کے لیے سوگ کا سماں پیدا کرتا ہے ان سے جذباتی لگاو کارشتہ انسانیت کی بنیاد ومضبوط فکر و سوچ کی بنیاد پر ہوتا ہے ملکوں و قوموں کوموت سے بچانے و نئی زندگی دینے میں فرد کا کردار ہی بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور یہی فرد ہی اپنی سوچ فکر و ثابت قدمی و مخلصی ایمانداری سے اس قوم کی تشکیل میں اپنا مرکزی کردار ادا کرتا ہے اور ایسے لوگ ہی قوموں کی پہچان بن جاتے ہیں یہ وہ اشخاص ہوتے ہیں جو کہ قوم کا مرکز کہلاتے ہیں ۔ جنگ آزادی میں ایسے ہی کردار قوم کو آزادی کی نوید سے نوازتے ہیں جن قوموں میں ایسے مخلص ایماندار بے غرض قابل و باصلاحیت اشخاص زیادہ ہونگے وہ قومیں غلامی کے زنجیروں کو ہر وقت توڑتے نظر آئیں گے۔ بلوچ جہد آزادی میں کچھ ایسے کردار ہیں جو کہ اپنی انفرادی خصوصیات کی بنیاد پر منفرد درجہ رکھتے ہیں ہر شخص جو کہ اس وقت آزادی کے جہد کا ہمسفر ہے اس کے کردار و عمل کا آخری نقطہ موت ہی ہے اس سے پہلے کسی بھی کردار و عمل کی مکمل ضمانت نہیں دی جاسکتی لیکن دوران جدوجہد ان کی فطری خاصیتیں ہی اسے منفرد مقام و درجہ دیتے ہیں بلوچ جہد آزادی میں شہید امیر بخش سے لیکر شہید امیر الملک شہید درویش وشہید شیہک تک تمام شہیدا ء اپنے انفرادی خاصیتوں کے ساتھ ساتھ اپنے کردار و عمل سے نمایاں حیثیت رکھتے تھے اور بلوچ جہد میں ان کا کردار دیگر جہد کاروں کے لیے مشعل راہ بنتا ہے۔شہید ماما مہندو ایک ایسے شخص تھے جسکی شخصیت تمام جہد کاروں سے منفردتھا جب اس نے آنکھیں کھولی تو اس سے خود کو بھٹو آمریت میں پایا جلاوطنی کی زندگی گزاری رفتہ رفتہ جوانی میں قدم رکھا تو بلوچ جہد آزادی سے منسلک ہوا اور بولان کے قرب و جوار کے پہاڑوں میں اپنے آزاد سماج میں سانس لیتا رہا۔کچھ ہی وقتوں میں اس کی مخلصانہ کردار و عمل نے اسے دیگر دوستوں سے منفرد بنا دیا۔ اور وہ وطن کی آزادی کا امنگ لیے بحثیت ایک سپاہی کا کردار ادا کرتا رہا ۔ وہ ایک مکمل انقلابی تھا ۔ ایک مکمل انقلابی میں جو خاصیتیں ہوتی ہیں گو وہ سب اس میں تھے ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی میں پہلی بار ایک مکمل انقلابی سے ملے ہومخلصی میں وہ سب سے چار قدم آگے تھا درویش صفت تھا معاملہ فہم تھا کھٹن سے کھٹن حالات میں بھی پرسکون تھا کام کی لگن سب سے زیادہ تھا محنت و ایمانداری کا انوکھا باب تھا میدان جنگ میں بہادری کا اعلی نمونہ تھا پیچیدہ سے پیچیدہ حالات کو کنٹرول کرنے میں مہارت رکھتا تھابے غرض جہد کار تھا نجانے وہ کیا تھا وہ کوئی انسان تھا یا دیوتا۔پر ایک ایسا شخص تھا جو ایک مکمل ادارہ نظر آتا تھا ۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ اس سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی۔جب سوچتا ہوں تو بس اتنا ہی یاد آتا ہے کہ ہر محاذ میں وہ کمان کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور ہنس مک چہرے کے ساتھ زخمی حالت میں ہنستا ہوا اپنے کبگی رواج میں چلتا نظر آتاہے۔ میدان جنگ میں بہت سے محاذوں پر ایک ساتھ رہے دو محاذوں پر وہ زخمی ہوا اور حالات بھی نازک تھے وہ کمانڈ بھی کررہا تھا۔ جب اس کے پاؤں پر گولی لگی تھی۔ خون بہہ رہا تھا وہ کچھ قدم پیچے ہنستا ہوا مذاق کرتا ہوا آرہا تھاگولیاں اوپر سے گذر رہے تھے ہم دوڑ رہے تھے جب تھوڑا محفوظ جگہ پر پہنچے۔ تو میری نظر اس کے پاؤں پر پڑی۔ چادر کے ٹکڑے سے بندہ ہوا تھا میں نے کہا کہ تمھیں گولی لگی ہے قہقہ لگاتا ہوا نہیں گرگیا نوکدار پتھر کی وجہ سے خراش آیا۔میں بضد رہا کہ اس پٹی کو کھول دو میں دیکھنا چاہتا ہوں یہ تو اس کی صفت کا ایک پہلو تھا آپ ضد کرتے وہ خاموشی سے مان لیتا ۔ میں نے دیکھا گولی گوشت کو کراس کرکے نکل چکی تھی ہڈی محفوظ تھا۔ میں بضد رہا کہ پٹی کر کے آگے جائیں گے پھر وہ خاموش رہا۔ جب دشمن پھر ہم سے قریب تر ہوتا گیا تو ہم اٹھے پھر ایک بار گولیاں پہاڑ پر لگتے رہے ماما ہنستا مسکراتا ہوا ہمارا حوصلہ بڑھا رہا تھا بولان کے سنلاخ پہاڑوں کی چڑھائی ہمارا منتظر تھا ماما ہمیں حوصلہ دیتا رہا بے خوف بے خطر بے آسر اس نے ہمیں پہاڑ کی چھوٹی سر کرائی۔اور پھر سے ہم اپنے مرکزی کیمپ میں موجود تھے ۔ جب ہم زخم کو ٹانکہ کرنے کا کہتے کہ یہ چھوٹا سا خراش ہے ٹھیک ہوجائے گا اسی طرح اس نے ٹانکہ نہیں کروایا۔ ہر روز میرے ضد کے سامنے مجبور میرا منہ تکتا رہا اور اپنا پاؤں پٹی کرواتا رہا۔ اور اسی حالت میں وہ ہر روز کمیپ کے روازنہ کاموں میں جھٹا ہوا تھاپانی سے لیکر کھانا پکانے تک ۔ اور ساتھ ساتھ اس دوران گشت پر جانے کے لیے سر فہرست رہتا اور سخت حالت میں زخم کی پرواہ کیے بغیر گشت پر چلا گیا۔ وہاں بھی کامیابی اسکے نصیب میں ہوئی اور یہ زخم کافی عرصے تک رہا کیونکہ علاج کے ساتھ ریسٹ کی ضرورت تھی لیکن قومی آزادی کی جہد اور وطن کی محبت اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز تھا اس وجہ سے وہ کھبی بھی بیماری کی شکایت نہیں کی۔ وہ بیماری میں بھی ہر وقت تندرست تھا اس پر کسی بھی تکلیف نے اثر نہیں ڈالا۔ وطن کی آزادی و کام کی لگن نے اسے ایک منفرد انسان بنادیا تھا وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر قومی کام کو اولیت میں رکھتا تھا اسکی طبعیت جتنی خراب کیوں نہ تھی لیکن اسے اولیت قومی کام کو دینا تھا اسی بنا پر ہمیشہ تندرست رہا اور ہر جنگ کا حصہ رہا ان گنت محاذوں کی سربراہی کرتا رہا ۔ اور سخت حالات میں حوصلہ بڑھاتا رہا۔بولان کے پہاڑوں میں پرورش پانے والے اس نوجوان کے حوصلے بولان کے سنگلاخ پہاڑوں سے کئی زیادہ مضبوط تھے اس کے خیالات بولان کے پہاڑوں سے زیادہ بلند تھے ۔ایک بار پھر میدان جنگ میں ہم ایک ساتھ اسکے کمانڈ میں تھے اور ایسا پرسکون شخص جو کسی بھی حالت میں پرسکون رہتا اور یقین نہیں ہوتا تھا کہ وہ ایسے حالات میں اپنے جذبات کو کیسے قابو میں رکھتا ہے۔ وہ کس طرح خود کو کنٹرول کرتا تھا کیا اسے موت کا ڈر نہیں تھا؟ کیا اسکے اندر کوئی دیوتا چھپا ہوا تھا؟میں کھبی بھی اسے سمجھ نہیں پایا۔میدان جنگ میں ہم سامنے لڑ رہے تھے ماما مہندو ہمیں کمانڈ کر رہاتھا۔ کہ ایک گولہ گرا۔ خاموشی چاہی رہی۔ میں دوڑتا ہوا ان کے قریب پہنچا ماما مہندو کے پیٹ میں اور شہید رشید کے پیشانی پر گولے کے پرخچے لگے تھے ۔ ماما مہندو بیٹھا واکی ٹاکی پر پرسکون انداز میں دیگر دوستوں سے رابطہ کر رہا تھا۔دو زانو بیٹھا اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑھ گیا تھااور خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔ میں نے زخم دیکھنا چاہا اس نے مجھے شہید رشید کے زخم کو پٹی کرنے کا مشورہ دیا شہید رشید کو پٹی کرنے کے بعد جب ماما کے زخم کو دیکھا تو اس وقت تک بہت خون بہہ چکا تھا ماما دوزانو بیٹھا تھا زمین پر خون آہستہ آہستہ جم رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بندوق دوسرے ہاتھ میں واکی ٹاکی لیے وہ رابطہ کر رہا تھا میں زخم کو دیکھ رہا تھامیں نے زخم پرپٹی باندھ دی۔ تو ماما مجھے دیکھ کر مسکرایا۔ مہرو سر چکرارہا ہے نجانے کیوں ایمان کمزور ہو گیا ہے کیا؟ میں ششدرہ آنکھوں سے اسے گھورتا رہا اور وہ واکی ٹاکی پر دوستوں کو ہدایات دے رہا تھا میں نے جلدی سے اسے کیل سی دینا چاہا لیکن رکا۔ کہ پتہ نہیں کہ پرخچے انتڑیوں تک پہنچے ہیں کہ نہیں۔میرے حوصلے ریت کی طرح بہہ گئے ماما اٹھا کہنے لگا میں ٹھیک ہوں۔وہ بیٹھ گیا اپنے مورچے میں وقفے وقفے سے گولیاں چلاتا رہا تاکہ دشمن اپنے مورچے سے نکل کر دوسرے مورچے تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہومیں واپس اپنے مورچے میں آگیا وقفے وقفے سے ماما کے پاس جاتا اور اسکا حال و احوال لیتا رہا۔ اسکی وہ بات کہ مہرو سر چکرا رہا ہے ایسا حوصلہ مند دوست اپنی طبعیت کی کمزوری کا احساس دلا رہا تھا لیکن مجھ سمیت کوئی دوست کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔صرف وقت کا انتظار کر نے کے علاوہ بے بسی و لاچاری کا احساس چاروں طرف پر منڈلارہا تھا۔آزادی کا احساس حوصلوں کو بڑھا رہا تھا تھوڑی دیر کے بعد ماما نے مجھے بلایا۔وہ بیٹھا ہوا تھا واکی ٹاکی اسکے ہاتھ میں تھا میں جب اسکے پاس پہنچا تو اس نے کہا دوستوں نے نیچے والے چوکی پر قبضہ کر چکے ہیں وہ دھواں دیکھ رہے ہو۔ میں خوشی سے پھولے نہ سمایا۔اور کہا ہمارے دوست ہمارے سامنے والے دشمن کے مورچوں کو قبضہ کر چکے ہیں خیال کرنا کہ اس طرف گولی نہ چلائیں۔ یہ پیغام تمام دوستوں کو ملنے کے بعد تھوڑی دیر تک دو طرفہ فائرنگ ہوتی رہی۔ تقریبا چار بجے کے قریب ایک دوست نے میرے کان میں کہا کہ ماما نے کہا ہے کہ قیصر مری زخمی ہو گیا ہے۔میں تیزی سے ماما کے پاس گیا وہ پرسکون بیھٹا ہوا تھا میں زخم دیکھنا چاہا لیکن اس نے مجھے نہیں دکھایا میں نے قیصر کا حال و احوال پوچھا تو اس نے کہا کہ قیصر کے سر میں گولی لگی ہے قیصر تین گھنٹے پہلے ہمارے ساتھ تھا اور کسی اور محاذ پر جا رہا تھا لیکن وہ ہمارے ساتھ ایک دوست کی طبعیت کی خرابی کی وجہ سے اسے ہمارے ساتھ بیج دیا گیا ماما سے تفصیلی حوال لینا چاہا وہ پرسکون طریقے سے وہ حوال دیتا رہا اسکے انداز و بیان و حوصلہ نے مجھ سمیت تمام دوستوں کے حوصلے کا سبب بنا۔ وہ حالات کو جلد بھانپ لیتا اور حالات کے تحت دوستوں کا حوصلہ بڑھاتا رہا۔شہید قیصر مری جس کے ہاتھ میں ایل ایم جی بندوق تھی وہ دلیری کے ساتھ اپنے مورچے پر ڈٹا ہوا تھاکہ ایک گولی اسکے سر پر لگی تھی بے بسی و لاچاری ءَ سماں چایا ہوا تھا نہ ڈاکٹر نہ دوائی نہ علاج کچھ بھی نہیں ۔

شہید قیصر کی شہادت کے بعد ما ما مہندو خود ہمارے پاس آتا تھا اور ہم بات کر رہے تھے کہ گولیاں چلی گولیاں ہمارے سر سے اوپر درخت پر لگے ماما مسکرایا ہم مزید نیچے جھک گئے ماما دشمن کے مورچوں کو دیکھ رہا تھا جنگ ایسے ہی نڈر باہمت و باحوصلہ کمانڈروں کے زیر سایہ جیتی جاتی ہیں پانچ بجے کے قریب ہوران مری کو بھی گولی لگی وہ بھی شہید قیصر کے ساتھ اسی مورچے میں تھا دونوں دوستوں کے سروں پر گولی لگی تھی۔ہم اپنے مورچوں پر تھے مغرب کے وقت جب میں ماما مہندو کے پاس گیا وہ کھڑا تھا اور دیگر دوستوں کو ہدایات دے رہا تھااور دیگر دوست بھی ہمارے کمک پر پہنچ رہے تھے جب میں نے دیکھا کہ جہاں پر ماما مہندو بیٹھا ہوا تھا وہاں ریتلی زمین پر خون قریبا دو فٹ کے ایریا میں خون پھیل چکا تھاماما مہندو کے پیٹ سے لیکر جوتوں تک کپڑے خون میں لت پت تھے ماما نے مسکراتے ہوئے کہا اس طرف دھیان مت دو۔ میں نے پٹی کھول دی درد سے سر چکرا رہا تھا میں نے زخم کو کریدا تاکہ اگر پرخچے اندر گئے ہیں انکو نکال دوں اس وجہ سے تھوڑا خون بہا اب میں بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں اور تمھاری اجازت کے بغیر پانی بھی پیا ۔اب دوست پہنچنے والے ہیں۔ شہید قیصر و ہوران کو نکالنا ہے اور دشمن کے مورچوں پر زور دار حملہ کرنا ہے ہم ایک ساتھ رہے دشمن پر زبردست حملہ کرنے لگے تاریکی پھیل چکی تھی اور ماما نے کہا کہ دوائیوں کی ضرورت ہے اور کچھ دوستوں کی محنت سے وہ دوائیاں ہم تک پہنچ گئے ماما نے ہم دوستوں کو شہید قیصر و زخمی ساتھی ہوران مری کو سنبھالنے کے لیے بھیجا اور خود دیگر چار ساتھیوں کے ساتھ دوائیوں کو پہنچاننے کے لیے گئے۔ماما کے ساتھ مختلف اوقات میں مختلف یادیں وابستہ ہیں اسکے حوصلے کو دیکھ کررشک ہوتا کہ اس نے یہ حوصلہ کہاں سے پایا ہے ؟جنگ کے میدان سے لیکر عام زندگی میں وہ ایک انوکھا کردار تھا اس نے خود کو ثابت کردیا تھا کہ وہ ہر حالت میں خود کو ڈھال سکتا ہے اور سخت سے سخت تریں ماحول میں وہ اپنے لیے راستہ پیدا کر سکتا ہے یہی وجہ تھی کہ اسکے ساتھ ہر جنگ پرسکون رہی نقصان ہوا لیکن حوصلے بلند رہے ایک لحمے کے لیے بھی یہ حساس نہیں ہوا کہ ہم دشمن کے نرغے میں آسکتے ہیں یا دشمن ہمیں شکست دے سکتا ہے بلکہ صرف جیت ہی آنکھوں میں چمکتا رہا۔ان محاذوں کے علاوہ صدیوں ایسے محاذ ہیں کہ جہاں ماما نے اپنے خدمات سر انجام دی ہیں اور انھیں کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ قومیں ایسے ہی کرداروں کی مرحوم منت ہوتی ہیں اور ایسے ہی کردار قوموں کو غلامی سے نجات دلانے کا سبب بنتے ہیں تاریکی سے روشنی کا سفر قوموں کو ایسے ہی کردار کرواتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں مختلف ممالک و مختلف اقوام کے مایا ناز رہبر و کمانڈر گزرے ہیں لیکن بلوچ قوم میں ایسے کرداروں کی کمی نہیں ۔اور جنگ آزادی میں ایسے کردار پیدا ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ لیکن ان کے جہگے ہمیشہ خالی رہیں گے۔ وہ اوتاک میں ایک ایسا دوست تھا کہ کوئی ایسا سپاہی تھا ہی نہیں۔ کہ وہ دس بارہ سالوں میں کھبی بھی اسے غصے میں دیکھا ہو اور کھبی بھی کسی بھی کام میں اسے کوتاہی برتے دیکھا ہواور نہ ہی کوئی ایسا مثال دے سکتا ہے پچاس سے زاہد دوستوں کے بیچ نوک جوک ہوتی رہتی ہیں اور محبت کے نئے دروازے کھل جاتے ہیں سخت سے سخت ماحول میں بھی اس کا رویہ دوستانہ رہتا اور کسی دوست کو بھی اس پر کھبی غصہ نہیں آیا اور نہ ہی اسے کسی دوست پر غصہ آیا ایک ایسے طبعیت کے مالک تھے کہ اس میں شہید درویش کی جھلک دیکھائی دیتی تھی ۔وہ ہر وقت کسی کام میں مشغول نظر آتا قباعلی معاشرے میں زندگی گزارنے والا ماما کو دیکھ کر کھبی بھی یہ گمان نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی قباعلی معاشرے میں پیدا ہواہو بلکہ اسے بعض فرسودہ قباعلی روایات کو اپنے لوگوں میں ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے تھے وہ پختہ ذہینت کے مالک و مستقل مزاج تھے ہمیشہ سے کام کی تلاش میں لگے رہتے تھے اوتاک سے اسکے علاقے کی نزدیکی کے باوجود وہ دو دو سال تک گھر کی طرف نہیں جاتے تھے کیونکہ اس کے سامنے پہلا فرض وطن تھا اور وطن سے اپنے بے پناہ محبت کی وجہ سے اسکے سامنے خونی رشتوں کی اہمیت کم رہی اس نے آزادی کے نظریے کو اپنی نس نس میں بسایا ہوا تھا محنت و خلوص اس پر آ کر رک جاتے محنت و خلوص کے الفاظ اسکے عمل کے سامنے بے معنی ہو جاتے وہ ان الفاظ کی توضع و تشریح اپنے عمل سے کرچکے تھے جن الفاظ کا ہمارے معاشرہ جو معنی اخذ کیا جاتا وہ اس سے کئی گناہ زیادہ ان الفاظ کی معنویت کو وسعت دے چکے تھے وہ ایک سپاہی نہیں تھے وہ وطن پر مرمٹنے والے ایک جانثار نہ تھے وہ ایک ایسے سچے انقلابی تھے جس میں ایک انقلابی کے تمام خصوصیات موجود تھے ویسے دنیا میں جو الفاظ بنتے ہیں یا وہ جو معنی اپنے اندر سے پیدا کرتے ہیں وہ ایسے ہی کرداروں کے عمل کے بعد وہ الفاظ وجود میں آتے ہیں شہید ماما مہندو ایک ایسے ہی کردار تھے جو کہ اپنے کردار و عمل سے الفاظ کی معنویت کو وسیع کرتے تھے اور اپنے کردار و عمل سے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایک انقلابی کو کیسے ہونا چاہیے ایک سپاہی کو کس طرح اپنے فرائض سر انجام دینے چاہیے ایک کمانڈر کے فیصلے کس طرح ہوں میدان جنگ میں دوستوں کے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہو۔کسی کو زبانی سمجھانے کی بجائے اپنے عمل سے ثابت کرتے تھے کہ وہ ایک سچے انقلابی تھے وہ ایک ایماندار مخلص نڈر بے غرض ساتھی تھے اس کے دل میں ہر وقت دشمن سے بدلہ لینے کا جذبہ مضبوط ہوتا رہا وہ ایک سچے انقلابی تھے اپنی شہادت سے کچھ دن پہلے وہ دوستوں سے صلح مشورہ کرنے کے بعد مچھ شہرکی طرف روانگی کا فیصلہ کرتے ہیں بقول ایک عزیز دوست کے کہ ہم نے اسے دو تین دن رکنے کا کہا کہ دیگر دوست آئیں گے آپ ان دوستوں کو ساتھ لیکر جائیں لیکن وہ بضد رہا کہ یہ اتنا پیچیدہ کام نہیں اور وہ تھکے ہارے آئیں انھیں ریسٹ کرنے دے میں ایک دوست کو ساتھ لیکر جاوں گا اور یہ کوئی مشکل کام بھی نہیں۔اوتاک سے ایک دوست زامری کے ساتھ چل پڑتے ہیں زامری جو کہ کچھ سالوں سے کیمپ آتے تھے تاکہ جنگ آزادی میں اپنا کردار ادا کرسکے اور راستے میں ایک اور ساتھی آدم خان کو ساتھ لیتے ہیں جو کہ کچھ عرصے سے مختلف محاذوں پر دوستوں کے ساتھ رہے تھے دونوں دوست جنگی حوالے سے مہارت نہیں رکھتے تھے ماما کسی بھی بڑے کام کے لیے جاتے تو وہ وقت و حالات کا چناو خود کرتے تھے اور ہر مشکل کام کو آسانی سے پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے کچھ دن مچھ کے پہاڑوں میں پڑاؤ کرتے ہیں اور اپنے کام کو سرانجام دینے کے دن وہ ہوشیاری کے ساتھ پہاڑ سے نیچے آئے تھے دشمن کو اسکی بھنک لگ چکی تھی دشمن مزدورں کے بھیس میں آیا تھا اور ماما اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ وہاں پر کسی کے انتظار میں رہے کہ علی الصبح دشمن نے ان پر حملہ کیا تھا اور شہید ماما و شہیدمہندو شہید زامری و شہید آدم دشمن سے کئی گھنٹے تک دو بدو لڑے تھے دشمن نے انھیں چاروں اطراف سے گھیرا تھا اور وہ آخری دم تک دشمن سے دو بد دو جنگ کرتے رہے تھے جام شہادت نوش کر گئے دشمن بھی ایسے نڈر کمانڈر کی صلاحیتوں کو چھپا نہ سکا اور شہید ماما مہندو کی تصویر جاری کردی جو کہ ہر بلوچ کے لیے کربناک لحمہ تھا اس نے خود کو ثابت کردیاکہ آزادی کے سپاہی کو کس طرح کے کردار کا مالک ہونا چاہیے ۔اسکے کردار و عمل پر بلوچ لبریشن آرمی نے رحم دل مری حرف ماماحرف 

مہندو کو بلوچ ءِ سگار کے خطاب سے نوازا۔کیونکہ وہ ایک سگار تھے جو دشمن کے ہر مورچے پر پڑے تھے ۔ ایسے کردار ہی قوموں کی زندگی کے ضامن ہوتے ہیں اور ایسے ہی کردار مردہ معاشروں کو نئی زندگی دیتے ہیں اور قوموں کو سرخرو و تاج دار بناتے بناتے ہیں

۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>