Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Mar 24, 2016 in Articles | 0 comments

انجیرہ کا انجیر: تحریر بشیر زیب بلوچ

انجیرہ کا انجیر: تحریر بشیر زیب بلوچ

عام روایت ہے کہ انجیر کے پھول کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا ہے۔ گر کسی نے نہیں دیکھا پھر یہ کیسے معلوم پڑاکہ انجیر میں پھول بھی کھلتا ہے اور ایک خاص وقت میں مخصوص مدت تک کھِلتے ہی مرجھاجاتاہے؟۔ پھول کے دیکھنے اورنا دیکھنے کا یہ فلسفہ ، میرے ذہن میں اب گھنٹی کی طرح بج رہی ہے کبھی خیال آتا ہے کہ یہ حقیت بھی ہوسکتا ہے۔پھول کو بنا دیکھے بھی تو اس کے وجود کو محسوس کیا جاسکتا ہے ، اس کی خوشبو کی مہک کو محسوس کرنا یا پھر انجیر کا ثمر یا پھل سے مستفید ہونا۔ آج بھی میں جس انجیر کے درخت، پھل و پھول کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، یہ بھی اسی پھول کے مانند ہے اور اس صداقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بہت سے انسانوں نے اس انجیر کا تو نہ درخت دیکھا اور نہ ہی پھول۔لیکن میں وہ بد بخت سا بختاور ہوں جس نے اس انجیر کے درخت سے لیکر خوشبو کی مہک تک کو دیکھا اور محسوس کیا۔رہی بات اس کے پھل و ثمر کا تو معلوم نہیں اسے میں دیکھ سکھوں گا یا نہیں لیکن یہ دنیا اس کو ضرور دیکھے گی۔ شاید دیکھنے والی درین ہی ہوگی۔ گرمیوں کی شام تھی اور ہلکی سی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ، وہ مجھ سے ملا اور ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے مجھے گلے لگایا ۔ اسکا تعارف پہلے سے ہوچکا تھا۔ہم بے عمل انسانوں کی ایک اہم اور مشہور خصلت یہ ہے کہ ہم عمل کم اور دعویں زیادہ کرتے ہیں۔ حسبِ روایت ہم شروع ہوگئے اور وہ باتیں سن کر ردعمل میں محض سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کبھی کبھار ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ باتوں کو سنتا غور کرتا چہرے پر غم، غصہ، پریشانی اور خوشی کی مشترک تاثرات کے ساتھ میرے خاموش ہوتے ہی اپنی منفرد انداز میں سوال کرتا پھر دھیان سے جواب کی انتظار میں کبھی اپنی نگاہ داہیں باہیں گھما کر واپس میری طرف مبذول کرکے مکمل خاموشی کی کیفیت میں چلاجاتا۔ اس وقت میرے گمان تک میں نہ تھا کہ اس خاموشی میں ایک گہرے درد کے ساتھ ایک بے آواز طوفان پنہاں پھٹنے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔ چند دنوں کے اندر ہی دوستی و قربت کے کی انتہا پر خود کو لانا خوش مزاج انسانوں کا کمال ہوتا ہے۔ یہ ایسے ہی غیر معمولی لوگوں کا ہی طرہ ہوتا ہے کہ وہ کچھ پل ہی آپکے ساتھ بتانے کے بعد آپ کو یہ باور کرادیتے ہیں کہ جیسے اس سے سالوں کی شناسائی ہے ۔ وہ اتنا گھل مل گیا تھا کہ بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ اتنی نزدیکی اور وہ بھی صرف صرف 4 دن کی یاری میں۔ پھر کبھی عرفان کبھی ع غ کبھی گنوک و بیسما کے نام سے پکارتے رہے۔یہ سفر جاری سفر تھا، اچھے اور برے غم و خوشی کے گذرے ہوے دنوں کے ساتھ آخر میں وہ عرفان میں نے شروع میں دیکھا وہ عرفان ہی نہ رہا۔سنگتی کے درد و مہر کو ساتھ لیکر قدم بہ قدم وطن کی آزادی کی پرآزماہش پر خطر راہوں میں۔ وہ بیسماعرفان کیسا ہوگیا ،میرے پاس جواب نہیں،اس کا جواب آپ خود تلاش کریں۔ بے غم، غمخوار گدر کے مولی شم سے پوچھو جو کسی دور میں پھلین امیر الملک کا گزر گاہ تھا ، اسکا جواب وہاں گل زمین پر پڑے لہو کی خوشبو کی مہک سے لے لو تب پھر آپ کو جواب عرفان کی باقی جہد، سوچ، سوچنے کا انداز،زاویہ نظر، حوصلہ ،قوت فیصلہ اور ارادہ واضع پیغام کے ساتھ ملے گا۔ درناک کیفیت کا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ درمیان میں تھے ،کام کے حوالے سے کوتاہی یاغلطی کی سرزدی پر جو کہتا تھا وہ تو کہہ دیا۔ ابھی کیا کروں، اب ان لفظوں کا بوجھ کیسے اٹھاوں ۔ بس ہر سنگت کی جانے کے بعد یہ خیال ذہن میں ضرور آتا ہے۔تکلیف دہ عمل ہی صحیح لیکن راستہ ہی ایسا ہے آپ کو کرنا ہی ہوگا۔ بغیر سخت اصول و طریقہ کے کوئی بھی آزادی کی تحریک ہو اس سے کامیابی کی امید رکھنا اپنے آپ سے سنگین دھوکا ہوگا۔جہاں سے توقع ، امید، مخلصی اور بہادری کی آثار نمایاں ہوں۔اسی کو ہر مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا،لیکن تاریخ میں بھی اسی کوہی تاریخی مقام حاصل ہوگی۔باقی تو قصہ پارینہ بن کر رہ جائینگے۔ عرفان اور دیگر وہ سنگت جو ہر مصیبت کو خند ہ پیشانی سے قبول کرتے، مشکل ترین فیصلوں کو عملی جامہ پہناتے رہے آج ان کا تاریخی مثالی کردار دوسرے نوجوانوں کیلے حوصلہ، جذبہ اور تحریک کیلئے لہو کا ایندھن بن کر آذادی کے جہد میں ولولہ پیدا کر رہے ہیں۔ عرفان کے زندگی کے خوشی کی وہ لمحہ شاہد زندگی بھر نہ بھول پاوں، جب فون رابطے سے واپسی پر ہنستے ہوئے اپنے خشک ہونٹوں اور کافی پیدل سفر کرنے سے تھکے ہوئے جسم کے ساتھ کھِلتے ہوئے مخاطب ہوا’’ مجھے بیٹی ہوئی ہے، اب میں باپ بن گیا ہوں، اب میرے ساتھ سیریس ہو جاو‘‘۔پھر اک دم پوچھا کہ کوئی اچھا سا اور منفرد بلوچی نام بتاوں۔ میں کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا یار پھر’’ گروشک‘‘رکھ لوکیا زبردست نام ہے۔چند دن بعد نام رکھنے فون پر گیا ،واپسی پر کہا آپ کا تجویز کردہ نام رکھنے سے پہلے ہی آپ کی بھابھی نے نام درین رکھ لیاہے۔ میں نے مزاقاً نام پر اعتراز کرتے ہوہے کہا، لگتا ہے بھابھی سے ڈرتے ہو ایک نام رکھنے کا آپ کو اختیار نہیں؟۔ اس نے جواب دیا نہیں وہ بات نہیں دراصل اس کی مہرو محبت کی انتہا ء کی وجہ سے میں نام مسترد نہیں کرسکا اس کا دل میں خراب نہیں کرسکتا۔ کبھی کبھی خوشگوار موڈ و ماحول میں درین کی تصویروں کو دیکھتے ہوئے کہتا ’’کام بہت ہے، کہنا بھی مناسب نہیں اور دشمن کی زوآوری و آپریشن بھی جاری ساری ہیں،اس کے باجود درین کو ایک بار گود میں بٹھانے اور اس سے کھیلنے کی تمنا دل میں رکھتا ہوں۔ وہ کیفیت ہی کیا ہو گا جب میں اپنے آپ کو ایک باپ کے روپ میں دیکھوں گا دراصل اس کیفیت کا منتظر ہوں‘‘۔ بس ہم اتنا کہہ سکے کہ اللہ خیر کریگا وہ دن بھی آپ ضرور دیکھو گے۔ لیکن عرفان نے نہ وہ دن دیکھا اور نہ ہی درین نے اورعرفان نے اپنا جان دے دی۔اپنے سینے میں بھری پڑی تظیمی رازوں اورمنصوبوں کو دشمن سے بچانے کی خاطر اپنے بدن کو اڑا کر ، اس دھرتی کے ہواوں میں تحلیل ہوگیا اورتاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلے امر ہوگیا۔ اے مادر وطن ، پارود شور کی پہاڑ و دشت گوران کی دشت تو بتا کہ امیر، نثار،حقنواز،شیرا،گزین اور عرفان کے بعد تجھے اور کتنوں کا لہو درکارہے؟اور کتنے درین جیسے معصوم اپنے باپوں کی ایک جھلک تک دیکھے بنا زندگی گذارتے رہینگے؟ کتنی مائیں جن کے قدموں کے مٹی برابر بھی ہم جیسے نالائق نہیں ہوتے ، انکے بیٹے قربان ہوں اور وہ اپنے امیر و نثار اور عرفان جیسے لخت جگروں کی آخری دیدار تک نا کرسکیں۔ اے ارض وطن بتا تجھے اور کتنوں کے لہو چاہیے؟ تو بتا ، اور بتاتے جا کیونکہ مادرے بلوچ اب تک بانجھ نہیں ہوئی ہے۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>