Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Aug 20, 2014 in Articles | 0 comments

خون سے لتھڑی لاش

خون سے لتھڑی لاش

تحریر :  نودبندگ بلوچ 

 

18 اگست سہ پہر چار بجے کا وقت تھا ، کوئٹہ میں سڑک کنارے ایک گرد آلود ، خون سے لتھڑی ایک لاوارث لاش پڑی تھی ، کسی کو پتہ نہیں یہ کون ہے ، روح قبض ہوجانے کے باوجود چہرے سے طمانیت اور فخر جھلک رہی تھی ، وہ فخر جو بتاتی ہے کہ میں اب تک نہیں ہارا بلکہ میں ہار ہی نہیں سکتا ، میں تو ہار کر بھی جیت گیا اور تم جیت کر بھی ہار گئے ، روڈ پر سیدھے منہ ، دونوں بانہیں کھولے ایسے پڑا تھا جیسے خود ہی آسمان کی طرف دیکھ کر موت کو پکار رہا ہے کہ آو اور مجھ اپنی بانہوں میں لے لو ، جسم پر خون سے لت پت پرانے کپڑے ، پیروں میں پرانے جوتے، زمین پر پڑا وہ ایسا لگ رہا تھا کا اسکا مردہ جسم ہی اس زمین کی ملکیت کا دعویٰ کررہا ہو ، جیسے وہ جسم چیخ کر کہہ رہا ہو کہ میں اس خاک سے ہوں اور یہ خاک مجھے سے ، اب میں اس خاک کا قرض چکا کر اس میں ایک ہونے جارہا ہوں ۔ 
فوجیوں نے کافی دیر بعد اسکے جیبوں کو ٹٹولنا شروع کیا ۔
“صاحب اسکی جیبیں خالی ہیں” سپاہی اپنے آفیسر کی طرف دیکھ کر مخاطب ہوا۔
آفیسر رعب دار لہجے میں بولا ” اچھے سے تلاشی لو سارے جیبوں کی کچھ تو ہوگا، شلوار کا جیب بھی دیکھ “
” نہیں ، ںیں صاحب کچھ ملا ہے جیب سے شاید کاغذ کا ایک ٹکڑا ، نہیں یہ تو 20 روپے ہیں ” سپاہی حیرت سے بولا۔
“کیا ، را کے تربیت یافتہ دہشگرد کے جیب سے صرف 20 روپے ، جسم پر پرانے کپڑے ، جوتے بھی پیروں سے بڑے ہیں لگتا ہے یہ بھی اسکے اپنے نہیں ہیں ، چلو دیکھو کتنی گولیاں لگی ہیں اور کہاں کہاں لگیں ہیں ” آفیسر بھی خلاف توقع صورتحال دیکھ کر ششدرہ تھا ۔
سپاہی تھوڑی دیر مردہ جسم کو جانچتا رہا ، پھر قدرے حیرت زدہ آواز حلق سے نکالتے ہوئے بولا ” صاحب گولیاں تو بہت لگیں ہیں پتہ نہیں چل رہا ، یہ تو پوسٹ مارٹم میں ہی پتہ چلے گا لیکن صاحب عجیب بات ہے سب کے سب گولیاں اسکی سینے میں ہی پیوست ہیں ، باقی پورے جسم پر کسی گولی کا نشان نہیں”

لاش کو آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا وہیں پڑا تھا ، کسی کو بھی پتہ نہیں یہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے ، جان تو کب کے جاچکی تھی لیکن چوڑے سینے میں گولیوں کے بنائے لاتعداد چھیدوں میں سے اب بھی تھوڑا تھوڑا خون رس رہا تھا ، جو اس کے سینے پر سے ایک دھارا بناتے ہوئے ، زمیں پر وقفے وقفے سے ٹپک رہا تھا ، اور ہر قطرہ زمین پر پڑے مٹی کے ذروں میں ایسے جذب ہورہا تھا ، جیسے خون کے وہ قطرے اس ذمین پر اپنی ملکیت جتا رہے ہوں ، جیسے وہ اس جسم میں قید تھے اور اب آزاد ہوکر اس مٹی میں جذب ہونے کیلئے بے تاب ہوں ۔ تھوڑی دیر پہلے یہی خون اس نوجوان کے جسم میں ایک بلا کے گرمی اور جوش کے ساتھ دوڑ رہا تھا ، وہ ایک پرانے موٹر سائکل پر سوار تھا ، چہرے پر 60 روپے والا ایک رومال ایسے بندھا ہوا تھا کہ صرف آنکھیں ظاھر ہورہی تھیں ، بلوغت کے دہلیز پر نیا نیا قدم رکھنے ولا اسکا دوست موٹر سائکل چلا رہا تھا ، وہ گلی کے نکڑ پر رکے اور پھرتی سے موٹر سائکل سے اترے اور بندوقیں نکال کر گلی میں ایستادہ دشمن فوجیوں پر ٹوٹ پڑے ، اسکا دوست پھرتی سے گلی کے دوسری جانب فائرنگ کرتے ہوئے چل رہا تھا اور دشمن کو ڈھیر کر رہا تھا اور وہ خود دونوں ہاتھوں سے بندوق تھامے سیدھا کھڑے ہوکر اس فوجی پر گولیاں برسانا شروع کردیا جس نے ابھی ابھی ہوش سنبھال کر اپنے بندوق کا رخ اسکے دوست کے جانب کردیا تھا ، اتنے میں کونے سے ایک اور فوجی ظاھر ہوا اور اس نوجوان کی جانب گولیاں برسانے لگا ، پہلے ایک پھر دو پھر ایک کے بعد ایک گولی اس نوجوان کے سینے میں پیوست ہوئے ، وہ موڑنے کے بجائے اپنا رخ اس دشمن کی طرف کرکے بندوق اسکی جانب تان دیا ، اسکا کمسن دوست اپنا کام کرکے ایک بار پیچھے موڑا بس اتنا ہی دیکھ سکا کہ وہ فوجی اس نوجوان کے سینے میں گولیاں پیوست کررہا تھا اور وہ نوجوان پیچھے ہٹے بغیر اپنے بندوق کا رخ اس فوجی کی طرف کرکے چند گولیاں چلانے کے بعد ذمین پر گرگیا ۔ 

یہ 18 اگست کی شام تھی ، ایک دوست سے ملا تو وہ گلو گیر لہجے میں مجھ سے بولنے لگا ” یار آج شکور جان شہید ہوگیا ہے ” ، میں حیران ہوکر پوچھنے لگا ” کیا ؟ وہ کیسے ؟ کب ” وہ دوست دوبارہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولا ، ” یار آج کوئٹہ میں برما ہوٹل کے قریب اس نے دشمن ایف سی پر ایک حملہ کردیا اور اس حملے میں تین ایف سی والے تو مار دیئے لیکن دوست وہیں شہید ہوگیا ، ہمیں تو معلوم بھی نہیں تھا کہ شکور جیسا سادہ اور خاموش مزاج انسان مسلح تنظیم میں ہوسکتا ہے ، اسکی لاش ابھی تک فوجیوں کے پاس ہے ، انہوں نے دینے سے انکار کردیا ہے ، اور جب اس کے والد اور خاندان والے لاش لینے پہنچے تو ایف سی نے ان پر تشدد بھی کیا ” شکور جیسے قابل دوست کے نقصان کا سن کر مجھ پر ایک سکتہ سا طاری تھا ، مجھے اس دوست کی کہی باتیں اب سمجھ نہیں آرہی تھی ، کافی دیر بعد کوئٹہ ایک دوست سے رابطہ ہوا تو وہ بولنے لگا ” یار ہم میں سے کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ شکور بی ایل اے میں ہے ، آج شہادت سے ایک گھنٹہ پہلے ہی ہم اس سے ملے تھے ، وہ دوپہر کے کھانے میں سیاہ چائے اور تندور کی روٹی کھا رہا تھا ، ہمیں معلوم تھا کہ معاشی لحاظ سے اسکے حالات بہت ابتر تھے ، ہم نے اسے کہا بھی کہ یار اگر پیسوں کی ضرورت کبھی ہو تو ہم دوستوں سے لے لیا کرو ، اس نے بس ہنستے ہوئے جواب دیا کہ بس یار پیٹ بھرنا ہے وہ سیاہ چائے سے بھی بھر جاتا ہے ، پھر اس نے جیب سے 20 روپے نکال کر ہمیں دکھاتے ہوئے ہنس کر بولنے لگا دیکھو ابھی تک میرے پاس رات کے کھانے کے پیسے ہیں ، جب یہ ختم ہوگئے پھر سوچیں گے ، پھر اس نے اپنے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھی میرے نہیں ہیں کسی دوست سے لیئے ہیں میں نے ، پھر وہ ہم سے کہنے لگا کہ مجھے ایک ضروری کام ہے بس میں ایک گھنٹے میں واپس آتا ہوں ، پھر مجھے ٹیوشن بھی پڑھانے جانا ہے ، بس ابھی میں نکلتا ہوں ، پھر نکلنے سے پہلے جب وہ جوتے پہن رہا تھا تو دوبارہ ہنس کر بولنے لگا کہ یہ جوتے بھی تم جیسے ایک دوست نے کچھ دنوں کیلئے ادھار دیئے ہیں ، پھر وہ نکل پڑا اس کے بعد ہم نے بس اسکی شہادت کی خبر سنی ، ابھی تک ہم اس کے میت کا بھی دیدار نہیں کرسکیں ہیں ، ایف سی والے اسکی میت ابھی تک واپس نہیں کررہے “

مستونگ کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والا کم گو ، نرم خو ، خوش گفتار ، باکردار اور سادہ مزاج شکور بلوچ ، بلوچوں کے دہوار قبیلے سے تعلق رکھتا تھا ، کافی عرصے سے پڑھائ کے سلسلے میں کوئٹہ میں رہ رہا تھا ، ایف ایس سی کرنے کے بعد وہ باقاعدہ طور پر بلوچ قومی سیاست کے دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد اپنا زندگی قوم کیلئے وقف کرچکا تھا ،ایف ایس سی کرنے کے بعد بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا ، وہاں بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم سے متحرک رہا ، پہلے بلوچستان یونیورسٹی کا ڈپٹی یونٹ سیکریٹری پھر یونٹ سیکریٹری منتخب ہوا بعد ازاں اپنی سیاسی بالغ پن کی وجہ سے بی ایس او کے سینٹرل کمیٹی میں بھی منتخب ہوا ، اپنا پورا وقت قومی کاز کیلئے وقف کرچکا تھا اسلئے اسے یونیورسٹی میں اکثر مسئلے ہوتے رہتے تھے ، اپنے اخراجات برداشت کرنے کیلئے وہیں کوئٹہ میں کہیں انگریزی زبان بھی پڑھاتا تھا ، اس دوران کسی طور مسلح تنظیم بی ایل اے سے منسلک ہوچکا تھا ، اور آہستہ آہستہ سرفیس سیاست سے کنارہ کش ہوکر ، مسلح جدوجہد میں مشغول تھا ، اپنی بہادری ، جانفشانی اور سادہ مزاجی کے بدولت اسے حلقہ احباب اور عزیزوں میں بہت عزت حاصل تھی ، ایک دوست کہتا ہے کہ ایک دن ہم شکور کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، ہر کوئ اپنا کوئ خواہش بیان کررہا تھا، جب ہم نے شکور سے پوچھا تو وہ افسردہ لہجے میں بولنے لگا ” میری خواہش ہے کے مجھے مرنے کے بعد شہداء بلوچستان قبرستان میں دفن کیا جائے ، لیکن مجھے پتہ ہے یہ ممکن نہیں ہوگا ، کیونکہ مرنے کے بعد میرا یہ جسم میرے اختیار میں نہیں ہوگا ، میری مرضی نہیں چلے گی اور میرے خاندان والے مجھے آبائ قبرستان میں ہی دفن کریں گے ” ہوا بھی یہی کہ آج سے ایک سال پہلے 18 اگست 2013 کو جب وہ شہید ہوئے تو دو دن تک اس کی لاش اپنے تحویل میں رکھنے کے بعد فوج نے جب اسکی لاش اسکے اہلخانہ کے حوالے کیا تو اسے ، مستونگ میں آسودہ خاک کیا گیا ” حال ہی میں ایک دوست کے ساتھ میں شکور کے بارے میں بات کررہا تھا تو وہ کہنے لگا کہ ” مجید ثانی کے شہادت کے بعد جب کوئٹہ میں دشمن کے حوصلے بلند تھے تو شکور کہتا تھا کہ ، یار مجید کی کمی پورا کرنا ہے ، اسکے بعد الیکشن کے دوران کوئٹہ کو ہلا دینے کے بعد مجھے یقین آگیا کہ یہ لڑکا واقعی مجید کی کمی پورا کرچکا ہے ، وہ اکثر کہتا تھا کہ اگر موت ملے تو مجید کی ملے اور ہوا بھی وہی ، اس نے مجید کی طرح دوبدو لڑائی میں سینے پر گولیاں کھاکر جان اس وطن پر قربان کرگیا “

نظریہ ، سوچ اور فکر ایک معمولی انسان کو بھی تاریخ بنا دیتی ہے ، ایک فلسفی کہتا ہے کہ ” ہمارے عظمت کا تعین ہمارے فیصلے کرتے ہیں کہ وہ کتنے عظیم ہیں ” شکور جان کا فیصلہ یقیناً ایک عظیم فیصلہ تھا ، مادی خواہشات ، خوشگوار زندگی ، روشن مستقبل کو ایک روشن صبح کی خاطر قربان کرنے کے اس کے فیصلے نے واقعی میں اسے ایک معمولی گوشت و پوست کے انسان سے غیر معولی ہستی بنادیا ، کہتے ہیں رات کی تاریکی میں چمکتے ہوئے ستاروں کو صبح کی سورج کیلئے اپنا وجود قربان کرنا ہی پڑتا ہے ، شکور تو اِن سیاہ راتوں میں ٹمٹماتا ایک ستارہ تھا ، اسے صبح کی روشنی کیلئے اپنا وجود قربان کرنا ہی تھا ، لیکن انہی ستاروں کی طرح سورج کی روشنی کی خاطر وہ آنکھوں سے اوجھل تو ضرور ہوگیا ہے ، لیکن اسکا وجود اب تک قائم ہے اسے ہم دیکھ تو نہیں سکتے لیکن وہ ہر وقت اپنا احساس دلاتا رہتا ہے ، مجید ثانی کو شہید کرنے کے بعد دشمن اس خوشی میں تھا کہ شاید اس نے دھرتی ماں کا کوکھ اجاڑ دیا ہے ، لیکن شکور نے ثابت کردیا کہ یہ دھرتی ماں اب تک بانجھ نہیں یہ اب تک نر مزار جنم دے رہی ہے ، اس کا کوکھ کبھی بھی نہیں اجڑ سکتا ، جہاں مائیں بچوں کو بہادری کی لوریاں سناتی ہوں اور بچے سینے پر گولیاں جھیلتے ہوں وہاں غلامی کی حیثیت بس اس گرہن کی طرح ہوتی ہے جس چند لمحوں کے بعد چھٹ جانا ہوتا ہے۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>