Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Jun 13, 2014 in Articles | 0 comments

(آہ! امیر مجھے معاف کرنا (تحریر: احمدشاہ بلوچ

 

امیر جان تمھاری شہادت کے وقت سے لےکر اس وقت تک میں اس سوچ میں رہا کہ تمھارے بارے میں اگر کچھ بھی لکھوں تو تمھارے خون کی قسم تمھارے کردار کے روایتی طور پر جذبات کی رو میں بہہ کر کسی صورت بڑھا چڑھا کر پےش نہےں کرونگا کےونکہ ےہ تمھارے خون اور کردار سے انصاف نہےں ہوگا اور ےہ شاےد شہداءکے تسلسل سے بھی دغا ہو اگر کچھ کمی ہوئی تو تمھارے صابرانہ طبیعت کو دکھ کر اپنے درگزر کا امید رکھتا ہوں
ہمارے لئے سنگت تم اسلئے ہردلعزیز نہیں تھے کہ تم نے جھالاوان اور اپنے علاقے توتک میں اپنی بساط کے مطابق ایک انقلابی سوچ اور انقلابی عمل کی بنیاد رکھی اسلئے بھی نہیں کہ سنگت تم ٹارچر سیل میں ازیت سہنے کے بعد بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہے اسلئے بھی نہیں کہ تم 8سالوں سے دن رات ہر مشکل گھڑی ہمارے شانہ بشانہ تھے اسلئے بھی نہیں کہ تم گرمی ، سردی ، برفباری ، بارش ، بھوک و افلاس اور طویل پیدل سفر کے تمام اذیتوں اور تکالےف کے باوجود اپنی قومی زمہ داریوں کو احسن طریقے سے بخوبی نبھاتے رہے اسلئے بھی نہیں کہ تمھارا اوڑھنا بچھونا غم اور خوشی دوستی اور دشمنی رشتہ داریاں سب کچھ قومی آزادی کی جنگ سے وابستہ تھے اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں اسلئے بھی نہیں کہ تمھارے گھر اور خاندان والے درپدر ہوئے ، قریبی رشتہ دار شہید ہوئے اور دو بھائی سمیت خاندان کے 20 کے قریب افراد تا حال دشمن کے ازیت خانوں میں بند ہیں اسلئے بھی نہیں کہ تمھارے حوصلے ، صبر چٹانوں کی طرح بلند اور مضبوط تھے کبھی کبھار تمھارے حوصلے اور صبر کو دیکھ کر مجھ جیسے بے صبر لوگوں کو بھی صبر کرنے کا حوصلہ ملتا ہے اسلئے بھی نہیں کہ تم قابض پاکستانی کمانڈوز کے ساتھ پورے ایک گھنٹے لڑتے لڑتے گولیاں ختم ہونے پراپنی بندوق سے اپنی زندگی کا خاتمہ اس سوچ کے تحت کیا کہ دشمن کے ہاتھوں ذلےل و خوار ہوکر اپنے دوستوں اور تنظےم کے راز اگلنے سے اپنے ہاتھوں اپنی موت لاکھ درجہ بہتر ہے اسی سوچ کا اظہار وقتا فوقتا تم کرتے رہتے تھے۔اور ہمیشہ دوستوں کو ےہ تلقین کرتے تھے کہ دشمن کے ہاتھ لگنے سے موت میرا پہلا ترجیع ہوگا تمھارے جہدکار سنگت اس بات کی گواہ ہیں تم ہمیشہ ایک گولی اپنی جیب میں رکھتے تھے اور کہتے تھے یہ دشمن کا نہیں بلکہ جمال کی زندگی کاا ٓخری گولی ہوگا۔ (مجھے جتنا ملال اور افسوس تمھاری کم عمری کی جدائی پر ہے اتنی ہی خوشی تمھارے خوائش کے پورے ہونے پر ہے)تم اسی لئے میرے او ر باقی تمام دوستوں کی نظروں میں منفرد اور نمایاں مقام کے مالک تھے اور ہم سب کےلئے ہردلعزیز تھے
تم ایک ایسے بے غرض اور صابر انسان تھے جس نے 8سالوں کی سفر میں کبھی بھی دوستوں سے کسی ذاتی غرض خوائش حتی کہ جائز ضروریات تک کا ذکر بھی نہےں کیا ہاں سنگت مجھے اس بات کا زندگی بھر افسوس رہے گا کہ میں نے بر وقت تمھاری وہ خوائش پوری نہےں کی جس کا اظہار تم ہر وقت کیا کرتے تھے کہ اگر میں آپ سے پہلے شہید ہوا تو مجھے آزاد بلوچستان کے بیرک میں لپیٹ کر نیو کاہان کے شہداءبلوچستان قبرستان میں میرے دوستوںکے ساتھ دفن کرنا لیکن امیر جان مجھے معاف کرنا کہ تمھاری ےہ خوائش بحالت مجبوری پوری نہےں کرسکا ۔
مجھے یاد ہے میرا اور تمھارا نظریاتی رشتہ جولائی 2006 میں قائم ہوا ہے اس کے بعد میں اور تم سنگت قومی جدو جہد کے سلسلے مےں ہمیشہ ساتھ رہے جہاں تک مجھے یاد ہے کہ اس تمام عرصے میں پندرہ یا بیس دن الگ الگ ذمہ داریوں کے سلسلے میں ہمیں جدا ہونا پڑا اس کے علاوہ بروز تمھاری شہادت 7اپریل 2014 تک ہمارے بیچ تلخ اور شیریں یادوں کا ایک ایسا سلسلہ تھا جسے تم نے مادر وطن کی گود میں آسودہ خاک ہوکر توڑ دیا اورسخت ترین امتحانی آزمائشوں میں اپنے یادوں کا بوجھ گراں بھی میرے کندھوں پر ڈال کر مجھ سے جسمانی طور پر دور ہوئے ےہ بخوبی جانتا ہوں کہ تم قومی جدوجہد کے ہر مرحلے میں میرے ساتھ رہے کر ثابت قدم رہنا چاہتے تھے لےکن قسمت کو شاےد ےہی منظور تھا کہ 7اپریل 2014کو تم اپنی آخری امتحان میں سرخ رو ہوکر مادر وطن سے بغل گیر ہو جا¶ اور ہمیں ابھی بہت سے آزمائشوں سے گزرنے کاامتحان دےنا ہوگا ۔سنگت امیر جان بس یہی دعا ہے کہ آزمائشیں جتنی سخت اور امتحان جتنے کڑی ہوں خدا ہمیں آپ شہےدوں کا ہم قدم اور ثابت قدم رکھے
مجھے معاف کرنا ۔۔۔!
میں تمھاری شہداءقبرستان والی خواہش اسلئے پوری نہیں کرسکاکیونکہ دشمن ےہ جان چکا تھا کہ شہید ہونے والوں میں ایک امیر الملک بھی ہے جس نے طویل عرصے سے میری نیندیں حرام کر رکھی تھی اسلئے دشمن آپ کی لاش کے انتظار میں مختلف راستوں کی ناکہ بندی کرچکا تھا میں گوارہ نہیں کرسکا تمھاری لاش کی بے حرمتی اور دیگر دوستوں کو کوئی نقصان ہو جب دشمن اپنے اس منصوبے میں ناکام ہوا تو اپنی روایتی کمےنہ پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی مرتبہ تمھاری آخری آرامگاہ پر ہےلی کاپٹر سے شےلنگ کی مجھے اور ساتھےوں کو دشمن کی ےہ حواس باختگی اور نفرت دیکھ کر بہت اطمینان ہوا کہ حقیقی زندہ جہد کاروں سے خوف اپنی جگہ شہداءسے بھی اتنا خوف لگتا ہے کہ خوفزدہ دشمن جدو جہد کی ہر اس علامت سے ڈرتا ہے جس سے غیرت عزت بہادری قربانی اور ایثار کا احساس پےدا ہوتا اور پھےلتا ہے میرے عزیز سنگت تمھاری آخری آرامگاہ اور باقی تمام جہد کاروں کی آرامگاہےں جن کی دشمن بار بار بے حرمتی کرتا ہے دشمن کا ےہ گھٹیا اور اخلاق سے عاری عمل ےہ ثابت کرتا ہے کہ تم (شہدائ) مرے نہےں زندہ ہو تم ہی مزاحمت قومی ہمت قومی غیرت اور ننگ و ناموس کے حقیقی نشان ہو تم ہی وہ احساس ہو جو مردہ ضمیروں اور مفاد پرستوں کے سیاہ کارناموں پر سورج کی روشنی بن کر پڑتے ہو جو دن کے اجالا جےسے اپنے لوگوں کے سامنے ظاہر ہوتے ہےں۔
امیر جان۔۔۔! اسی لئے دوستوں نے ےہ فیصلہ کی کہ نیو کاہان کے شہداءآرامگاہ کے علاوہ مادر وطن کے ہر چوٹی چُر میدان جہاں بھی کوئی جہد کار اپنے خون کا نذرانہ پےش کرے گا وہاں اس کی تاریخ لکھی جائے گی اور وہےں سے اس کے خون کی خوشبو آنے والی نسلوں کےلئے قربانی اور ایثار کا ایک درس تا ابد دیتا رہے گا اسی لئے شور میں جہاں تم نے اپنے لہو کو مادر وطن کےلئے بطور نذرانہ بہا یا وہی مقام اب تمھارے لہو کے مقدس ہونے کا گواہی دیتا رہے گا اور وہ مزاحمت کے علامت کے طور پر تا ابد سلامت رہے گا ہماری خوائش اور دعا ہے کہ اگر کھبی اس زندگی سے ناطہ توڑنے کا وقت آئے تو ہمیں بھی وہ سب کچھ نصیب ہو جو تمھے اور باقی حقیقی بلوچ شہداءکو نصیب ہوا اور ہم بھی تمھارے پہلو میں جگہ پائیں اب شور میں ”امیر جان نا آستان“ ایک تاریخ بن چکا ہے
۔ میں کھبی کھبار سوچ کر دنگ رہے جاتا ہوں کہ آجکل کے دور میں امیر جان تم جیسا بے غرض انسان بھی تھا ؟ ہمارے اس نیم قبائیلی نیم سیاسی معاشرے میں تمہارے جیسا انسان بھی تھا جس سے کھبی بھی انا کی خودغرضی کی جھلک نظر نہےں آئی
میری سوچ ایمان اور عقیدہ یہی ہے کہ کوئی بھی شخص جب تک بے غرض نا ہو وہ اپنے معاشرے پر اثر پذیر نہےں ہو سکتا اس کی مثال ایک سوکھے درخت جیسی ہوتی جو وجود تو رکھتا ہے لےکن نہ اس کا کوئی سائےہ ہوتا ہے نہ پھل اور بےغرض انسان ایسے سائےہ دار اور پھل دار جیسے ہوتا جس کی طرف لوگ خود ہی کھچے آتے ہےں اور بے غرض انسانی جسم میں قوت مدافعت جیسا ہوتا ہے جس کے ہوتے ہوئے ہر قسم کی بیماریاں انسانی جسم پر اثر انداز نہےں ہوسکتیں ہےںتمھاری بے غرضانہ قوت مدافعت نے تمھےں جدو جہد کے تمام عرصے میں ہر قسم کی بیماریوں سے بچائے رکھا تم ایک بے غرض انسان تھے جسے نا شہرت اور نہ عہدے کی خوائش تھی نا کھبی تم نے قبائلےت کا سہارا لیا اور نہ ہی خوشاندانہ انداز اپنایا اور نہ ہی اخلاقی رویوں کا دامن چھوڑا اور نہ کھبی کام چوری کےلئے بہانے تراشے کھبی کھبار یاداشت کی کمزوری تمھارے ذمہ داریوں کے آڑے آتی تھی
غرض رکھنے والے انقلابیوں کی مثال انقلاب کے دشمنوں کی اس قسم میں ہوتی ہے جو دیمک کی طرح اندر سے چاٹ کر کمزور کرتے ہےں وہ ظاہری دشمن نہےں ہوتے لےکن ہوتے دشمن ہےں وہ اس لئے بھی دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتے ہےں کےونکہ وہ بظاہر نظر نہےں آتے اور صفوں کے اندر ہونے کی وجہ سے جلدی سمجھ بھی نہےں آتے وہ دیمک کی طرح اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیتے ہےں خودغرضی معاشرتی بیماریوں کی ماں کہلاتی ہے۔
بے غرضی کا ایک اعلی اور مثالی نمونہ امیر المک تھا اکثر اوقات تنظیمی کاموں کے سلسلے میں میرا رویہ ان کے ساتھ انتہائی تلخ ہوتا تھا کبھی کبھار دوسروں کے دیے ہوئے غصے کو اپنا دماغی بوجھ ہلکا کرنے کے لئے امیر میرے ڈانٹ کا شکار ہوتا تھا واقعات بہت ہیں شاہد کتاب لکھوں پورا نہیں ہونگے صرف ایک واقع شہید کی زندگی میں میرے لئے تکلیف دہ تھی اب زیادہ تکلیف دہ ہے ایک دفعہ قابض دشمن کی منصوبہ بندی کے کسی پیغام کی تشریح کو میرے سامنے غلط پیش کیا پھر پتا چلا ایسا نہیں تھا ہمارے حکمت عملی کی تبدیلی اس کے پیغام کی وجہ سے تبدیل ہوا تھا تو اس حوالے سے میں دوستوں کے سامنے پورا ایک گھنٹے تک انتہائی سخت رویے اور سخت لہجے کے ساتھ اسے کہتا رہالیکن وہ کھڑے ہوکر صرف میرے طرف دیکھتا رہا اور کچھ نہیں بولا بعد میں کسی دوست نے مجھے کہا کسی بھی وقت خدارا مجھے میری غلطی کی وجہ سے مجھے اتنا زیادہ نہیں کہنا وہ برداشت مجھ میں نہیں (یعنی امیر المک جیسا) شاید ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں پھر مجھے احساس ہوا شایدآج میں نے امیر کو کچھ زیادہ کہہ دیا پھر میں انتظار میں تھا شاید امیر کا ردعمل سامنے آئے گا تو کچھ گھنٹے بعد امیر میرے پاس آیا اور حسب روایات مجھے کہنے لگا کچھ دوست آنے کو ہیں ان کا پروگرام کیسے ترتیب دیں میں خاموش ہوکر اس کی طرف دیکھنے لگا وہ بھی حیران ہوگیا شاید اسکا غصہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں ہوا ہے اس نے اپنا سر نیچے کیا وہ کیفیت تا موت میرے زہن میں نقش ہے پھر میں نے صرف اتنا کہا جمال (دا صبر تون کھٹیسا)یعنی اس صبر کے ساتھ تم جیت جاو گے حیرانگی کے ساتھ اس نے پوچھا کیوں؟میں نے کہا آج میں نے آپ کو بہت کچھ کہا! وہ ہستے ہوئے کہنے لگا نہیں آپ نے میرے بھلائی کے لئے سب کچھ کہا ۔ اس کی شہادت کے بعد کسی غلطی کی بنیاد پر دوسرے سنگت پر میں برسنے لگا پھر اچانک مجھے میرے اندر سے آواز آئی احمد شاہ ہوش سنبھال وہ جمال تھا، وہ گوارو تھا،وہ تمھارے جگر کا ٹکڑا تھا وہ ابھی تم سے ہمیشہ کے لئے جاچکا ہے اب شاید کوئی آپ کی باتوں کو اسطرح برداشت نہیں کرے گا کیونکہ تنظیم، اصول، سزا و جزائ، تربیت، نصیحت ، مشورہ ، سخت طریقہ کار کی پابندی اور آپ کی ہدایت ، نصیحت وہاں کارآمد ہونگے جہاں قبائلی انا، خودغرضی، خود فریبی، عقل،سلیم والا سوچ،میری،متعبری جیسے ناسور بیماری نہ ہو میں خاموش ہوکر ایک بار پھر اپنے اس عزم کو دورایا کہ امیر تیرے خون کے ایک ایک قطرے سے اور امیرالملک بن کر تیرے مشن کو اسوقت تک جاری رکھیں گے جب تک دھرتی ماں کے سینے پر ناپاک فوج کے ناپاک قدموں کی چاپ ہوگی۔۔۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>