Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Feb 6, 2014 in Articles | 0 comments

تحریک اور تنقید – نود بندگ بلوچ

انقلابی تحریکوں کا مقصدایک نظام کو مکمل تبدیل کرکے اس کی جگہ ایک نیا نظام لانا ہوتا ہے ،یہ ہمیشہ ایک تکلیف دہ اور متشددانہ عمل ہوتا ہے۔ایک انقلابی تحریک تب تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی جب تک کے وہ سابقہ نظام کے اثرات سے مکمل طور پر خود کو آزاد نہیں کرتا ، کیونکہ جب تک کہ آپ پرانے نظام سے نفسیاتی اور جسمانی طور پر آزاد نہیں ہوتے تب تک یہ آپ کیلئے ممکن نہیں کے آپ اس سے مختلف اور نیا نظام تخلیق کریں۔پرانے نظام کے اثرات سے مکمل چھٹکارہ حاصل کرنا اتنا آسان عمل نہیں ہے ،کیونکہ وہ سالوں سے ہمارے رگوں میں رچ بس چکی ہوتی ہے اور وہ آخر دم تک ہمارا پیچھا کرتی رہتی ہے ،اس لیئے ایک انقلابی کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کے وہ وقتاً فوقتاً اپنے کرداروں کا جائزہ لیتے رہیں اور خود تنقیدی کا عینک پھینک کر اپنا احتساب کرتے رہیں اور جانچتے رہیں کے کہیں پرانے نظام کے اثرات اس کے افکار کو پراگندہ تو نہیں کر رہے۔
بلوچ قومی تحریک بھی ایک انقلابی تحریک ہے کیونکہ ہم بھی پاکستان سے آزاد ہوکر ایک نیا ریاست بنانے چاہتے ہیں اور اس ریاست میں پاکستان سے مختلف ایک نظام متعارف کرواناچاہتے ہیں ، ایک ایسا نظام جس میں پاکستان کے استعماری نظام کی کوئی جھلک نا ہو، جس میں انسان برابر ہوں ، جہاں جنس ،مذہب ،رنگ اور نسل کے بنیاد پر کوئی تفریق نا ہو۔ہر انقلابی تحریک کی طرح بلوچ تحریک بھی پھولوں کی بستر نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ثابت ہورہی ہے ۔اپنے آپ کو پرانے نظام اور ریاست سے آزاد کرنے کی جدوجہد میں بلوچ کو ہزاروں تکا لیف اور ریاستی جارحیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن یہ ایک ایسا فطری عمل ہے جسے ٹالا نہیں جا سکتا کیونکہ بغیر تکلیف کے صرف پاکستان جیسے طفیلی ریاست کی ہی تخلیق ممکن ہے۔ جیسا کے کارل مارکس کہتا ہے ’’ جب انقلاب کا بچہ پیٹ میں پل رہا ہوتا ہے تو تشدد ہی دائی کا کام کرتا ہے‘‘۔ پرانے نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے تگ و دو میں آج بلوچ کو پرانے نظام کے کچھ ایسے خصائل کا سامنا ہے جو ابھی تک ہمارے نفسیات سے جڑی ہوئی ہیں جیسے کے جھوٹ ، الزام تراشی ،اختلافِ رائے پر عدم برداشت ، ایجنٹ کے القابات سے نوازنا ، غداری کے سرٹیفکٹ بانٹنا، اداروں پر اجارہ داریت کا خواب ، عوام کو بیوقوف سمجھنے کی حماقت ،طاقت کے حصول کی بعد اپنا مقصد اور اوقات بھولنا ،حسد ،دھوکہ دہی وغیرہ۔ مسلسل ۶۵ سال کی غلامی کی وجہ سے ہم میں اپنے آقا کی ایک جھلک دکھتی ہے۔ جب تک ہم پاکستان کی تھونپی ہوئی اس نفسیات کے اثرات سے مکمل طور پر چھٹکارہ حاصل نہیں کرتے تب تک ایک نئے ریاست اور نظام کی تخلیق،جوئے شِیر لانے کے مترادف ہے۔
ایک انقلابی نو آبادیاتی نفسیات سے چھٹکا رہ حاصل کرنے کیلئے اور اپنے کردار میں سدھار لانے کیلئے ہمیشہ اپنے اور اپنے ساتھیوں کے کردار کا جائزہ لیتا رہتا ہے، اسلئے انقلابی تحریکوں میں تنقید وہ آئینہ ہوتا ہے جس سے ہم اپنا اور اپنے کامریڈوں کا چہرہ دیکھتے اور دکھاتے ہیں تاکہ وقت کے رفتار میں چہرے پر پڑنے والی دھول صاف کیا جاسکے ۔
یوں تو بلوچ پنجابی سامراج کے خلاف ۱۹۴۸ سے لڑ آرہا ہے ، مختلف ادوار میں مختلف تحریکیں چلیں جن میں سے اک بھی مختلف وجوہات کے بناء پر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہواسکا۔موجودہ تحریک جس کا باقاعدہ آغاز ہم کہہ سکتے ہیں کے ۲۰۰۱ سے ہوا سب سے جدید اور سائنسی طرز پر استوار تحریک ہے ۔ ۲۰۰۱ سے لیکر ۲۰۱۲ تک بلوچ نے اپنے اس تحریک میں بہت کچھ پایا اور بہت کچھ کھویا ہے، لیکن اگر مجموعی طور پر جائزہ لیں تو قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم اس دور کو ایک کامیاب دور کہہ سکتے ہیں کیونکہ ہم نے اس دور میں شخصیات ضرور کھوئیں ہیں لیکن منزل سے قدرے قریب پہنچے ہیں۔ ہم اس دور کو ہمارے موجودہ تحریک کا ایک فیز کہہ سکتے ہیں ،ہم مجموعی طور پر اس فیز کا مطالعہ کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں ہم میں اب تک پرانے نظام سے مستعار لئے کچھ ایسے خصائل اور نفسیاتی اثرات اب تک موجود ہیں ( وہ موضوعِ بحث نہیں ) جو اگر دور نہیں ہوئے یا ہم نے ان سے چھٹکارہ حاصل نہیں کیا تونا ہی ہم مستقل مزاجی سے منزل کی طرف چلتے رہنے کی لائق بچیں گے اور نا ہی ہم کبھی اپنے تحریک کو ایک متحد اورمنظم شکل دینے میں کامیاب ہونگے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کے ہم اب نا صرف خود تنقیدی کے آئینہ سے اپنا منہ دیکھنے لگیں بلکہ اپنے تحریک کے سنگتوں کو بھی تنقید کے آئینہ میں ان کا چہرہ دکھائیں۔ دنیاکے دوسرے کامیاب تحریکوں کا ہم جائزہ لیں تو ہم دیکھتیں ہیں کے مختلف پارٹیاں ہونے کے باوجود ان میں ایک اشتراکِ عمل تھا، وہاں تنقید اور احتساب کیلئے کسی نا کسی صور ت میں کوئی ادارہ موجود ہوتا تھا، لیکن ہم ابھی تک ایک ایسا ادارہ بنانے میں ناکام ہوئے ہیں جہاں نا صرف اشتراکِ عمل کیلئے کوششیں ہوتی بلکہ تنقید اور احتساب کیلئے ایک پلیٹ فارم میسر ہوتا ، تحریکوں میں تنقید ایک فطری عمل ہے ، جب کسی فطری عمل کا راستہ بند کیا جاتا ہے تو وہ پانی کی طرح کہیں سے بھی اپنا راستہ بنا کر اس ڈگر پر چل پڑتا ہے، اسی لئے بلوچ سیاست میں اس تنقیدی عمل کا آغاز ایک منتشر شکل میں آج فیس بک پر ہو چکا ہے اور اس انقلابی عمل کی اہمیت اور ضرورت کو دیکھ کر ضرور ہمارے لیڈر بالآخر اس انقلابی عمل کیلئے ایک ادارہ قائم کرنے کا سوچیں گے۔
تنقیدی عمل ہر انقلابی تحریک کا ایک لازم حصہ ہے اس پر کاربند ہونا اتنا ہی لازمی ہے جتنا کے تحریک خود کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ تحریک میں ایسے رجحانات جنم لیتے رہتے ہیں اگر ان کو ختم نا کی جائے تو وہ نا صرف تحریک کا رخ کسی اور طرف موڑتے ہیں بلکہ اس کے ناکامی کا سبب بھی بن جاتے ہیں ، لیکن تنقید ایک سنجیدہ نوعیت کا عمل ہے اس کے بہت سے قواعد و ضوابط ہیں اگر ان قواعد کی پاسداری نا کی جائے تو وہ ہمیں مثبت نتیجہ دینے کے بجائے انتشار کا شکار کردیتا ہے ۔ تنقید کرتے وقت ان بنیادی اصولوں کا خاص خیال رکھنا چاہئے ۔ ۱۔ تنقید کا مقصد ہمیشہ اصلاح ہونا چاہئے نا کے کسی کی کردا ر کشی یا نیچا دکھانا ۔ ۲۔ تنقید ہمیشہ جائز اور ذاتیات سے پاک ہونی چاہئے۔۳۔تنقید کا تعلق تحریک اور مقصد سے ہونا چاہئے ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سارے اصول و ضوابط ہیں جن کو ملحوظِ خاطر رکھنا انتہائی لازمی ہے لیکن آج جو اصول ہمارا موضوعِ بحث ہے وہ ہے ’’ تنقید ہمیشہ مصدقہ اور ثبوت کے ساتھ ہونا چاہئے ‘‘
تعمیری تنقید کیلئے یہ انتہائی ضروری ہے کے ہم اگر کسی عمل یا کسی شخص کے عمل پر تنقید کر رہے ہیں تو ہم وہ بات مکمل ثبوت کے ساتھ کریں ، ثبوت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کے آپ نے اپنے آنکھوں سے ہی وہ چیز دیکھی ہو اس کے بہت سے اقسام ہیں ۔
یہاں اپنے موجودہ تنقید عمل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ثبوت اور اس کے اقسام پر ایک مختصربحث ضروری ہے تاکہ ہم تنقید کے اس دائرے کو سمجھ سکیں اور ثبوت و مخبری میں فرق کر سکیں ۔ میں یہاں سوشل میڈیا پر ہونے والے تنقید اور مباحثہ کو مدنظر رکھتے ہوئے تنقید اور ثبوت کے تعلق پر بحث کرنے کی کوشش کروں گا۔
۱۔ Direct Evidence: یہ ثبوت کی وہ قسم ہے جب ہم کچھ اپنے آنکھوں سے خو د دیکھ رہے ہوتے ہیں ، یا ایک وقوع پذیر عمل میں خود شامل ہوچکے ہوتے ہیں، مثلاً میں بی ایس او آزاد کے سینٹرل کمیٹی کے میٹنگ میں بیٹھا ہوا ہوں اور اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کے ڈاکٹر منان بی ایس او آزاد کے فیصلوں پر اثر انداز ہورہا ہے ۔اور اب اگر میں تنقید کرتا ہوں اور کہتا ہوں کے بی ایس او آزاد اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں تو اپنے اس بات کا ثبوت میں خود ہوں ۔ یہ ثبوت کی بہت مصدقہ اور ٹھوس قسم ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔
۲۔Documentry Evidence : یہ ثبوت کی وہ قسم ہے جس میں ہم کسی بھی قسم کا دستاویز پیش کرتے ہیں، مثلاً بی ایس او آزاد اپنے کونسل سیشن میں یہ فیصلہ کرتا ہے کے اب لیڈر شپ کے نام ظاھر نہیں کئے جائیں گے،باقاعدہ فیصلہ ہوکر اسے لکھا تک جاتا ہے، اب میں اگر تنقید کرتا ہوں کے بلوچ خان کیوں کھلے عام تقریر کرکے اپنی شناخت ظاھر کر رہاہے حالانکہ انہوں نے کونسل سیشن میں یہ فیصلہ کیا تھا کے وہ اپنی پہچان مخفی رکھیں گے ، اس پر ثبوت کیلئے میں وہ فیصلہ کی کاپی پیش کر سکتا ہوں جو انہوں نے کی تھی۔یہ بھی بہت ٹھوس ثبوت مانا جاتا ہے۔
۳۔Ear say Evidence : ثبوت کی یہ قسم سنی سنائی باتوں پر محیط ہوتی ہے ، جیسے کے میں کہوں کے مکران کے لوگ کہتے ہیں کے بی ایل ایف اپنے ذاتی عناد میں لوگوں کو مخبر یا منشیات فروش قرار دیکر مار رہا ہے ،یہ بھی ایک ثبوت ضرور ہے لیکن یہ ایک کمزور اور غیر مصدقہ ثبوت ہے۔
۴۔Circumstational Evidence: اس ثبوت سے مراد حالات و واقعات کو جوڑ کر کوئی بات ثابت کرنا ، مثلاً میں کہیں سے گزر رہا ہوں میں دیکھتا ہوں کے ایک آدمی کے ہاتھ میں چاقو ہے اس پر خون لگا ہے اور بھاگ رہا ہے اور قریب ہی میں دیکھتا ہوں کے ایک آدمی زمین پر اوندھے منہ پڑا ہوا ہے اور اسے چاقو سے مارا گیا ہے ، تو میں ان حالات کے روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کے جس شخص کے ہاتھ میں چاقو ہے اس نے ہی قتل کیا ہے گو کے میں نے اسے اپنی آنکھوں سے قتل کرتے نہیں دیکھا لیکن حالات و واقعات اس کی طرف اشارہ دے رہے ہیں ۔ ایک اور مثال ہم یوں لے سکتے ہیں کے مجھے پتہ ہے کے پروم یا ہیرونک کے علاقوں میں مکمل طور پر بی ایل ایف اور بی آر اے کا کنٹرول ہے وہاں کے پہاڑی علاقوں میں نا سرکار جاسکتی ہے اور نا ہی کوئی چور ڈاکو اب اگر ان علاقوں میں کچھ ہتھیار بند بڑی تعداد میں آکر منشیات کے ایک گاڈی کو لوٹتے ہیں ، تو پھر دیکھے بغیر ہی میں حالات و واقعات کے روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کے منشیات کی یہ گاڈی بی ایل ایف یا بی آر اے نے لوٹی ہوگی۔ ثبوت کی یہ قسم کسی حد تک مضبوط سمجھا جاتا ہے ، اس کی مضبوطی حالات و واقعات پر منحصر ہے۔
۵۔Forensic Evidence : یہ جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل ثبوت ہے، مثلاً میں بلوچ خان پر تنقید کرتا ہوں کے وہ میڈیا میں آکر جھوٹ بول کر ہمارے لئے جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں اور اس کی وجہ سے لوگوں کا اعتبار ہم سے اٹھ جائے گا ، اور ثبوت کے طور پر میں بلوچ خان کا دنیا نیوز میں دیا گیا اس کا تعارف پیش کرتا ہوں جس میں وہ خود کو زاھد کرد کہتے ہیں پھر میں بی بی سی کا انٹرویو دکھاتا ہوں جس میں وہ خود کو بلوچ خان کہتے ہیں ، جدید ٹیکنالوجی پر استوار یہ ثبوت نا قابلِ تردید ہوتے ہیں اور یہ ثبوت کی سب سے ٹھوس ترین شکل ہے۔
۶۔Opinion : اس سے مراد کسی بارے میں لوگوں کی رائے ہے جو سیدھی طرح آپ تک پہنچتی ہے یا اخباروں میگزینوں وغیرہ کے ذریعے آپ تک پہنچتی ہے ، مثلاً میں کہتا ہوں کے بی ایل ایف مکران میں غیر مقبول ہوتی جارہی ہے، اور ثبوت کے طور پر میں التاز بلوچ کا توار میں چھپا آرٹیکل پیش کرتا ہوں ، یہ اتنی مضبوط ثبوت نہیں ہے لیکن مجموعی طور پر اہمیت رکھتی ہے۔کیونکہ یہ کسی واقعے کے حوالے سے ایک رائے قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
۷۔ Corroboration : ثبوت کی یہ قسم کسی دی ہوئی ثبوت کو اور مضبوط کرنے کیلئے پیش کی جاتی ہے ۔ مثلاً میں میں ڈائرکٹ ایوڈنس ہوں کے میرے سامنے بی ایل ایف کے لوگوں نے ایک شخص کو منشیات فروشی کے الزام میں مارا ہے اور میں پھر مزید اضافہ کرتا ہوں کے ہمارے محلے کے ایک اور شخص ’’ الف ‘‘ نے بھی مجھ سے کہا کے اس نے ایک بار بی ایل ایف کے لوگوں کو ایک شخص کو منشیات فروش قرار دیکر مارتے ہوئے دیکھا تھا۔ اب موصوف یہاں موجود نہیں ہیں لیکن میں اس کا Corroboration پیش کر رہا ہوں۔ یہ بذات خود ایک کمزور ثبوت ہے لیکن کسی اور ثبوت کو مضبوط بنانے میں کام آتا ہے۔
۸۔ Oral Evidence : ثبوت کی یہ قسم اس وقت پیش کی جاتی ہے جب آپ ثبوت میں صرف سنی ہوئی بات پیش کرتے ہیں ، مثلاً میں کہتا ہوں کے بلوچ خان نے کہیں مجھ سے اپنے زبان سے یہ بولا کے وہ بی ایس او آزاد کو بی این ایم کے جلسوں کو کامیاب کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔اب میں اس بات کو ثابت تو نہیں کر سکتا کے اس نے واقعی مجھ سے یہ بات کہی ہے یا نہیں لیکن یہ ایک ثبوت کے ضمرے میں آتا ہے لیکن ایک کمزور ثبوت۔
۹۔Perjury : ثبوت کی یہ وہ قسم ہے جسے صرف اسلئیے پیش کی جائے تاکہ اصل مدعے سے توجہ ہٹائی جائے یا اس کو پیچیدہ بنایا جائے، مثلاً کوئی کہے کے سلام صابر غلط کر رہا ہے، جب اس سے ثبوت مانگا جائے تو وہ ثبوت میں کہے کے سلام پٹھان ہے یا اسی طرح اصل مدعے کے بجائے وہ یہ رٹ لگائے کے اسلم تاجک ہے، ڈاکٹر نظر سگریٹ پیتا ہے،شبیر پنجگوری ہے،وغیرہ اب ان باتوں کا مدعے سے تو کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن ان کا مقصد صرف مسئلہ کو بگاڑنا یا اس کے بارے میں کوئی اور پس منظر تخلیق کرنا ہوتاہے۔یہ پھر ثبوت کے بجائے دروغ گوئی کے ضمرے میں آتا ہے اور تنقید کرنے والے کے اپنے خلاف جاتا ہے۔
۱۰۔Description : ثبوت کے اس قسم میں ہم کسی کے بارے میں مکمل ذاتی آگاہی دے رہے ہوتے ہیں ، اس کے خدو خال اور اس کے حدود اربعہ بیان کر رہے ہوتے ہیں ، دنیا کے دوسرے معاملات میں اس کی شاہد کوئی اہمیت ہو لیکن جہاں تک اس کا ہمارے تنقید سے تعلق ہے تو یہ ثبوت کے بجائے مخبری کے ضمرے میں آتا ہے، مثلاً میں اپنی کسی بات کو ثابت کرنے کیلئے یہ کہوں کے بلوچ خان اس رنگ کے کپڑے پہنتا ہے اس نے اس طرح کی داڑھی رکھی ہے یا فلانے علاقے کے فلانے جگہ پر رہتا ہے یا سلام صابر آج کل فلانے علاقے میں رہ رہا ہے وہ فلانے جگہ آتا جاتا ہے یا سوشل میڈیا پر اگر میں کسی کو جانتا ہوں اور اس نے فیک آئی ڈی استعمال کی ہوئی ہے تو میں بولنا شروع کروں کے یہ اصل میں فلانا شخص ہے اور فلانے جگہ رہتا ہے وغیرہ ۔اس طرح کی تنقید اگر جو کوئی بھی جانے یا انجانے میں کر رہا ہے تو وہ انتہائی غلط کر رہا ہے ، وہ اپنے نیک نیتی میں بھی ایک مخبر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسے دوستوں کی ہر طرف سے حوصلہ شکنی ہونی چاہئے، کیونکہ ہم میں سے کسی کا بھی نقصان پورے قوم کا نقصان ہے ۔
مندرجہ بالا ثبوت کے اقسام پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کے دوست اس کو پڑھ کر غور کریں ، اور سوشل میڈیا پر ہونے والے اس عمل کو با معنی بنائیں ،کوئی بات بغیر ثبوت کے نا کریں کوشش کریں کے اپنے کئے ہوئے بات کو
مندرجہ بالا اقسام میں ایک بار طول کر دیکھیں کے آیا یہ بات تنقید کے معیار پر پوری اترتی ہے کے نہیں، ہمیں اپنے ہر لفظ کو ایک قومی امانت سمجھ کر ادا کرنا چاہیئے ، ہمیں دیکھنا چاہیے کے کہیں ہم تنقید کر تے کرتے مخبری تو نہیں کر بیٹھے ہیں ، یا ہماری کی ہوئی تنقید مسئلے کو حل کرنے یا اصلاح کرنے کے بجائے کہیں اور بگاڑ تو پیدا نہیں کر رہا ۔یہ بہت ضروری ہے کے تنقید کرتے ہوئے آپ ایک پل بھی اپنا مقصد نا بھولیں ، آپ کا مقصد صرف اور صرف اصلاح اور تحریک کی بہتری ہے ۔ جس طرح قومی تحریک میں اپنا کردار ادا کرنا فرض ہے اسی طرح قومی تحریک میں تنقید کے ذریعے شفافیت لانا بھی فرض ہے اور جس طرح تنقید ایک فرض ہے اسی طرح اس کا صحیح استعمال اس سے بھی بڑا فرض ہے۔تنقید کریں اور ہر چیز کو تنقیدانہ نظر سے دیکھیں تب ہی چیزوں کے تمام پہلو ہمارے سامنے آئیں گے اور ہم صحیح اور غلط کا تمیز کرکے تحریک کو جدید خطوط پر استوار کرکے کامیابی کے ڈگر پر چل سکتے ہیں ۔
دنیا میں سب نے سیب کو درخت سے گرتا ہوا دیکھا ہے ، صرف نیوٹن نے ہی اس سیب کے گرنے کو تنقیدانہ نظر سے دیکھ کر ایک سوال پوچھا تھا کے یہ آخر کیوں نیچے گرتا ہے؟ اور اسی ایک سوال نے ہی بنی نوع آدم کی تقدیر بدل دی ، کیا پتہ آپ کا ایک سوال بلوچ کی قسمت بدل دے۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>