Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Feb 6, 2014 in Articles | 0 comments

گوریلا کمانڈر جونا مری – حمید بالاچ

قومی تحریک آزادی کو دبانے کیلئے بلوچستان میں گزشتہ پینسٹھ سالوں سے فوجی آپریشن تیز کردیا گیا۔ ڈیر ہ بگٹی کوہستان مری گوادر، آوران، مشکے، تربت، مند، بولان زیبائے چلتن،نیوکاہان، جالڑی اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں روز ٹارگٹ آپریشن اور فوجی آپریشن کے نام پر بلوچ نسل کشی کی جارہی ہے۔ قبضہ گیر اپنے فوجی طاقت کے ساتھ ساتھ مقامی مخبروں کو استعمال کررہی ہے۔سرزمین بلوچستان اپنے جانثارو بہادراور دلیر سرفروشوں کی جہد مسلسل اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ناڈی محمد مری یکم اگست 1933کو سبزل مری کے گھر وادی چپی کچھ کوہستان مری میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 7سال کی عمر میں جزبے و طاقت اور شعور کے ساتھ نواب خیربخش مری کی قیادت میں 1948ء کو چلنے والی جنگ میں بلو چ گوریلا رہنما بابو شیرو مری کے ساتھ بلوچ سرڈگار کی پہاڑوں میں گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔ آپ بہادر دلیر انسان تھے،آپ نواب خیربخش مری کو اپنا گوریلا اور سیاسی استاد مانتے تھے،آپ غریبوں کا سہارا اپنے شاخ کا روشن چراغ اور خاندان کیلئے سگار تھے۔ آپ تین سال تک گوریلا رہنما بابو شیرو مری کے ساتھ پہاڑوں میں رہے آپ کی خاندان سمیت کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ آپ زندہ ہیں یا مار دیئے گئے ہوں۔ ایک رات ا چانک آپ گھر پہنچ گئے آپ نے اسی رات اپنے شاخ کے تمام چھوٹے اور بڑے سب کو اکٹھا کرکے انہیں بلوچ قومی آزادی کے راستے میں قدم رکھنیکی دعوت دی۔وہاں پر موجود تمام لوگوں نے آپ سے اتفاق کر کے آزادی کی جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ آزادبلوچستان کی جنگ میں آپ نے کئی محاذوں پر دشمن فورسز کے توپوں کا جوان مردی سے مقابلہ کیا۔ 1973ء میں جب ریاستی قابض فورسز نے کوہستان مری کے علاقوں میں آپریشن شروع کیا۔پانچ سال تک جاری رہنے والی اس جنگ میں آپ کا کردار انتہائی اہم رہا تو اس کے بعد مزاحمتی ساتھیوں نے نئی حکمت عملی کے تحت پڑوسی ملک افغانستان جلاوطنی اختیار کی تو ناڑی محمد جوکہ اپنی مخلصانہ کردار کی وجہ سے قومی تحریک کے اہم ساتھی میں شمار کئے جاتے تھے اپنے خاندان سمیت افغانستان جلاوطن ہوگے جس وقت افغانستان میں بلوچ قومی تحریک کے قائد نواب خیر بخش مری جلاوطنی کی زندگی گزاررہے تھے تو اس دوران قابض ریاستی ایجنسیوں کے ایما پر میرہزاربجارانی نے مری قبیلے میں گزینی اور بجارانی کا شوشہ کرکے تحریک سے علیحدہ ہوگئے مگر ناڈی محمد گزینی مری نے نواب خیربخش مری کے فکر وفلسفے پر کاربند رہتے ہوئے نواب صاحب کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔آپ کو دوران گوریلا جنگ میں (جونا مری) کے نام سے ساتھی پکارتے تھے۔ ناڈی محمد عرف جونا مری آخری دم تک جدوجہد میں رہے۔شہید بالاچ مری جب ڈیرہ بگٹی سوئی میں مری بگٹی کا تصفیہ کرنے گئے اس وقت بھی ناڑی محمد عرف جونا مری بھی انکے ساتھ تھے۔ شہید بالاچ مری آپ کو جونا کے نام سے آواز دیتا تھا ریاستی مخبروں نے آپ کو کئی بار گرفتار کروانا چاہا لیکن ان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔20نومبر 2007کو جب آپ کو اطلاع ملا کہ نواب خیربخش مری کے لال گوریلا کمانڈر بالاچ مری ایک معرکے میں شہید ہوگئے ہیں تو آپ آنسو بہا بہا کر بے ہوش ہوگئے۔ 29نومبر 2012کو ناڑی محمد دل کو دورہ پڑنے سے اس جہاں فانی سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی نماز جنازہ میں مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔آپ کو نیوکاہان میں سپرد گلزمین کیا گیا۔مادر وطن کی جہدوجہد آپ کی خدمات کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ میرے عظیم استاد ناڑی محمد تمہیں سرخ سلام۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>