Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Feb 6, 2014 in Articles | 0 comments

قومی ضرورت شعوری جدوجہد – اسلم بلوچ

قومی تحریک میں جدوجہد کے حوالے سے عملی طور پر مختلف مراحل سے گذارنے کے بعد گذشتہ تمام عرصے میں نسبتاً کم مگر حالیہ کچھ عرصے سے میرے ذہن میں یہ خیال مزید تیزی سے تقویت پارہا ہے کہ آج کے بلوچ تحریک میں چھوٹے سے چھوٹے مسائل سے لیکر تمام بڑے مسائل پر بہت زیادہ غور و فکر کی اشد ضرورت ہے۔ وجوہات آج صاف ظاہر ہیں جن میں قابل ذکر جس پہ آپ غور کرسکتے ہیں وہ یہ کہ جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں وہ زوز بروز پیچیدہ ہوتے ہوئے آزادی کی مانگ کرنے والوں کے بیچ دوری کا سبب بنتے جارہے ہیں جسکی وجہ سے تمام قوتوں کے قابلیت و اہلیت پہ سوالیہ نشان لگ جانا لازمی امر بن چکا ہے۔ان تمام قوتوں کے دعووں کے علاوہ یا ان سے قطع نظر اجتماعی سوچ رکھنے والے سیاسی کارکنان کے لیے ان تمام حالات کو ان کے حقیقی وجوہات کے ساتھ سمجھنا اس لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ تاکہ وہ کسی بھی نوعیت کے غلط فیصلے سے بچ سکیں جذبات ،تعلق ،روایات کسی بھی وجہ سے اپنے خلوص ،محنت ،قربانی کو لے کر کسی منفی رو کا حصہ نہ بنیں۔میری ناقص رائے یہ ہے کہ آج بدقسمتی سے سیاسی اور انقلابی رویوں کی فقدان کی وجہ سے تمام غلطیوں اور کمزوریوں کے لیے بے بنیاد اور غیر حقیقی جواز گھڑے گئے ہیں تا کہ یہ پردہ پوشی برقرار رہے اور حقائق کو چھپانے اور حقائق کی آشکاری کے کشمکش میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو چکے ہیں ان تمام پیچیدگیوں کے بیچ حقائق کی تلاش کے لیے غور و فکر بھی حقیقی بنیادی زایوں پہ ہونا لازمی ہے۔کیونکہ اجتماعی قومی سوچ رکھنے والے کارکنان کے لیے آج شاہد یہ سمجھنا اتنا آسان نہیں کہ بلوچ اجتماعی قومی سوچ سے متصادم گروہی علاقائی سوچ کو لے کر تما م غلطیوں، کمزوریوں اور منفی رویوں کے پردہ پوشی کے لیے کھوکھلے نعروں اور خیالات کو بلوچوں کے جذبات اور سادہ لوحی سے جوڑ کر اتحاد،شہیداء،دشمن کے مظالم کا رونا رو کر گمراہ کن خیالات کا پرچار کس سطح سے اور کتنی خوبصورتی سے کیا جارہا ہے۔ جہاں بات سمجھنے سوچنے پوچھنے کی ہو وہاں جیسے بچوں کو اندھیرے سے ڈرا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ بالکل ویسے ہی شہیدوں کا واسطہ ،قومی اتحاد ،دشمن کو فائدہ وغیرہ جیسے جذباتی خیالات کے ذریعے خاموشی کی تلقین کی جاتی ہے۔ میں چند سوالات آپ دوستوں کے سامنے رکھتا ہوں۔ میرے تشریح سے بہتر یہ ہے۔ کہ آپ میں سے ہر کوئی ان کے جوابات کو ڈھونڈ نے کی کوشش کریں ۔
کیا آزادی کا مطلب صرف اور صرف پنجابی تسلط سے چھٹکارہ ہے؟
آگاہی کیوں اور کس لیے ضروری ہے؟
قومی شعور کی بنیاد پر سچ اور جھوٹ ،بُرے اور بھلے میں تمیز کے ساتھ ہی ساتھ خوب سے خوب تر کی تلاش کیوں اور کس لیے ضروری ہے؟
کیا آزادی گفتار کے ساتھ ایک مثالی کردار یا کم از کم بہتر کردار لازمی نہیں؟
کسی بھی گروہ شخصیت یا پارٹی یا تنظیم کے افکار و اعمال جس مقام پہ یک جاہ ہو تے ہوں وہاں کیا تضاد کی گنجائش ہے؟کسی سیاسی پارٹی کے آئین و منشور کے علاو ہ سیاسی اخلاقیات یا انقلابی اخلاقیات کی کوئی حقیقت و اہمیت ہے؟
دوران انقلاب پارٹیوں اور تنظیموں کے حیثیت اور پروگرام سے قطع نظر ان کا انقلابی اخلاقیات سے ہم آہنگ ہونا کیوں ضروری ہے۔ بصورت دیگر انقلابی اخلاقیات کا پابند ہو نا کیوں ضروری ہے؟
کسی بھی سطح کے اداروں کو زیر دست کرنا سیاسی عمل ہے؟
اداروں کو ان کے حیثیت اور حدود میں پھلنے پھولنے دینا اور اس سے فکری ہم آہنگی کے ذریعے ایک رشتہ قائم کرنا سیاسی عمل ہے؟ان سوالات کے جوابات کے لیے غور و تحقیق آپ سب کا کا م ہے۔
طاقت کی تشکیل اور طاقت کے حصول کے لیے پیش کردہ سیاسی خیالات ،ذرائع ،عسکریت وغیرہ ان کے بیچ گروہیت اور اجتماعیت کے لیے واضع شناخت کے لیے سیاسی و اخلاقی حدود کی واضع نشاندہی ان تمام کے بیچ مو جودتضادات کی نشاندہی، حقیقی امر یہ ہے ، کہ انفرادیت سے گروہیت اور اس سے اجتماعیت کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اور عسکریت ایک ذریعہ ہے اس سفر میں سرکشی اور زور آوری کو کنٹرول کرنے کا وہ قوتیں جو بزور قوت آپ کے اس ترقی کے سفر کو مشکل اور ناممکن بناتے ہیں۔ان پہ قابو پانے یا پھر جہاں تک ممکن ہو اس سفر کے دوران ان کے طاقت کو محدود کرنے کے لیے استمعال ہوتا ہے ۔ ایک سماجی زند میں ان تمام معمولات پہ ادراک کے حوالے سے کیسے مکمل عبور ہو سکتا ہے یا پھر شروع دن سے طاقت کے حوالے سے گرفت کو وہ مکمل کنٹرول کرسکیں۔ اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے تو میرے خیال میں یہ ایک سفید جھوٹ ہو گا۔ آپ دوست باریک بینی سے غور کریں۔
کیا یہی تضادات نہیں جن کے آشکار ہونے پہ سوچ بچار ،بحث مباحثوں اور تحقیق کے ذریعے ہی خوب سے خوب تر کی پہچان میں آسانی ہوتی ہے۔ اور اس فطری امر سے کون انکاری ہے کہ جس خوب کو آپ نے حاصل کیا ہے جو آپ کے کنٹرول میں ہے اس سے خوب تر کی تلاش اور حصول اور اس پہ کنٹرول پورا ایک سیاسی مرحلہ وار عمل ہوگایعنی خوب کو چھوڑ کر خوب تر کے لیے جدوجہد ہی ترقی کے لیے جدوجہد کہلاتا ہے (جیسے کہ آج بلوچ قومی سیاست میں جس نے جو بھی بنایا ہے اس کو چھوڑ کر آگے کے لیے سفر ہی تر قی کہلائے گا۔تمام گروپس مکمل ایک دوسرے میں ضم ہونگے تو ایک اجتماعی قومی قوت کی تشکیل ہوگی۔ یا پھر اجتماعی مفادات کے تحت کسی بھی اجتماعی معاہدے کی پابندی کریں گے۔ تب ہی کوئی نئی صورت واضع ہوگی)درحقیقت تضادات کی آشکاری ان کی حقیقی وجوہات کی وضاحت قبولیت ہی معاشرے میں ترقی کے حوالے سے ہر سطح پہ چھوٹے سے چھوٹے غلط پر ہر ممکن صحیح کو غالب لانے کے لیے اس کے تقاضوں اور ضروریات کو پورا کرنے کی محرک بنتی ہے۔
۔ اور ظاہر ہے کہ یہ بحث مباحثوں و تحقیق کے بنا ناممکن ہے۔ ہمارے ہاں اتنے بڑے فطری حقیقت سے نظریں چُرا کر اس سیاسی اور انقلابی عمل میں روکاوت پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن غیر سیاسی اور غیر اخلاقی حربوں کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کیا جارہا ہے۔ کیوں؟وجوہات پر غور انتہائی ضروری ہے۔ اس بارے میں اپنی ناقص رائے لکھنے سے پہلے دنیا کے کچھ جانے مانے کامیاب انقلابی لیڈروں کے دوران عمل بالکل ایسے ہی حالات سے گُزرتے وقت کے ارشادات کا حوالہ دینا ضروری سمجھوں گا۔ ماؤزے تنگ کی کتا ب تعلمات ماؤزے تنگ یوں کہتاہے۔’’کامریڈوں کو ہمیشہ ہر چیز کی اچھی طرح چھان بین کرنی چاہییں اور گہرے طور پر سوچنا چاہیے کہ کیا وہ چیز حقیقت سے مشابہت رکھتی ہے اور اسکی بنیاد مضبوط ہے؟انہیں کسی حالت میں بھی کسی بات کی اندھا دھند تقلید نہ کرنی چاہیے کیونکہ ایسا رویہ غلامانہ ذہنیت کی ہمت افزائی کرتا ہے‘‘ایک اور جگہ کہتا ہے۔ ’’پارٹی کے اندر تنقید کا معیار پست اور حاسدانہ نہ ہونا چاہیے۔بیانات وغیرہ استدلال اور حقائق پرمبنی ہوں اور تنقید زیادہ تر سیاسی پہلو پر ہو۔‘‘
ایک جگہ اور وہ یوں کہتا ہے۔ ’’اگر ہمارے اندر خامیاں ہیں توہمیں ان پر تنقید وغیرہ سے گھبرانا نہ چاہیے کیونکہ ہم نے عوام کی خدمت کرنی ہے ۔خواہ کوئی بھی ہو اسے ہماری خامیوں پر انگلی رکھنے دیں۔ اگر وہ ٹھیک کہتا ہے تو ہم اپنی خامیاں دور کریں گے اگر اسکی تجاویز سے عوام کو فائدہ پہنچتاہے تو ہمیں اس پر عمل کرنا ہوگا‘‘ ماؤزے تنگ مزید کہتا ہے۔’’داخلیت ‘فرقہ واری اور پارٹی کی دقیانوسی تحریوں کی مخالفت کرتے وقت ہمارے ذہین میں دو مقصد ہونے چاہئیں۔اور مستقبل کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں۔دوم مریض کو بچانے کے لیے اسکا علاج کریں۔ کسی کا خیال کئے بغیر ماضی کی غلطیوں کا پول کھول دیں۔ایک سیاسی نقطہ نظر سے ماضی کی برائیوں کا تجزیہ اور محاسبہ ضروری ہے۔ تاکہ مستقبل کا کام زیادہ احتیاط اور بہتر طور پر کیا جاسکے۔ مستقبل کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں کا یہی مطلب ہے۔ لیکن اپنی غلطیوں کو بھرم کھولنے اور اپنی خامیوں پر نکتہ چینی کرنے سے ہمارا مقصد ایک ڈاکٹر جیسا ہے۔جو مریض کو مارنے کی بجائے اسے صحت یاب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔جب کسی شخص کے اندر کچھ ‘غدود غیر متوقع طور پر بڑھ جائیں تو اسے بچانے کے لیے اشکا آپریشن کرکے فالتو غدود نکال دیئے جاتے ہیں۔اگر کوئی شخص علاج کے خوف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی بیماری کو چھپانا چھوڑ دے اور اس کا مرض لاعلاج نہ ہو جائے اور وہ خلوص دل سے اپنی غلطی کی معافی مانگ لے اور علاج کی خواہش کرے تو ہمیں بھی اسے ایک اچھا کامریڈ بنانے کے لیے اس کا علاج کرنا چاہیے ۔ اسے بُرا بھلا کہنے سے ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔کسی سیاسی یا نظریاتی بیماری کا علاج کرتے وقت ہمیں ایسے شخص پر بگڑنا نہ چاہیے بلکہ ایسے مریض کی جان بچانے کے لئے اس کا علاج کرنا چاہیے کیونکہ یہی صحیح اور مؤثر طریقہ ہے‘‘ وہ مزید لکھتا ہے۔’’ہم چینی کامریڈ جن کے تمام فعل چینی عوام کے بلند مفادات پر مبنی ہیں اور جو اپنے نصب العین کی سچائی کے پوری طرح قائل ہیں۔ اور جو ذاتی قربانویں سے کھبی نہیں گھبراتے اور اپنے نصب العین کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کو تیار ہتے ہیں۔کیا ہم کوئی ایسا خیال یا نقطہ نظر رد کرسکتے ہیں جو عوام کے مفادات کے مطابق ہو؟کیا ہم سیاسی گرد کو اپنے چہروں پر جمنے یاجراثیم کو اپنے صحت مند جسموں میں داخل ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ہمارے ان گنت شہید عوام کے مفادات کے لیے اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں او ر انہیں یاد کرکے ہمارے دل درد سے بھر جاتے ہیں ۔ ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہمارے لیے ذاتی مفادات کو قربان کرنا اور اپنی غلطیوں کو درست کرنا مشکل ہے؟‘‘ اسی حوالے سے ماوزے تنگ یوں رقمطراز ہے۔’’غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہم اپنے معاملات کو بہتر طور پر چلانے کے قابل ہوگئے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت یا فرد کے لیے غلطیاں ناگزیر ہیں‘لیکن ہمیں کم از کم غلطیاں کرنی چاہئیں ۔ کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اسے فورادرست کریں کیونکہ اسی میں ہماری بھلائی ہے۔‘‘اور آگے چل کر ماؤ زے تنگ کہتا ہے۔’’ہمیں اپنی کسی کامیابی پر مطمئن نہ ہونا چاہیے ۔ ہمیں ایسے اطمینان کا سد باب اور اپنی خامیوں کا ہمیشہ مخاسبہ کرنا چاہیے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم جراثیم کو دور کرنے کے لیے ہر روز اپنا چہرہ دھوتے ہیں یا فرش کو گرد سے پاک رکھنے کے لیے صاف کرتے ہیں‘‘
مجھے لگتا ہے کہ یہاں ہمارے ہاں اکثریت کا نقطہ نظر مخصوص حالات کے اثرات کے تحت بن چکا ہے۔ مثلاً علاقائی اور روایتی سیاست کے اثرات کے تحت،گروہی و قبائلی سیاست کے اثرات کے تحت ہم نے اپنا نقطہ نظر خاص قومی اجتماعی مفادات کے معیار کے تحت نہیں بنایا جب
ہم کو مسائل درپیش آتے ہیں۔ اور ان کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ تو ہمارا پورا زاویہ نظر مخصوص شخصیات ،مخصوص گروپس ،مختلف علاقائی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ اور ان سے باہر کا ہم سوچ ہی نہیں سکتے اور وہ مسائل مزید پیچیدہ اور گھمبیر اسی وجہ سے ہو جاتے ہیں۔ کہ ہم نام لیوا ہیں۔ بلوچ قومی اجتماعی مفادات کا قومی جغرافیہ اور قومی شناخت کا اور ان کے ہی مفادات تحفظ کے لیے ہم نے پوری ایک جنگ چھیڑ رکھی ہے تو یہاں ہم سے تقاضا اجتماعیت کے حوالے سے اجتماعی فیصلوں کا ہو رہا ہے۔ اور بدقسمتی ہمارا زاویہ نظر ہی گروہیت ،قبائلیت اور روایتی سیاست پہ استوار ہے۔ جب ہمارا زاویہ نظر ہی اجتماعی سوچ کے تحت نہیں تو پھر یہ اندر ہی اند ر ایک بہت بڑی تضاد ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ فی الوقت اس سے چھٹکارہ آسان نہیں ۔ تو ان حالات میں زیادہ اجتماعی سوچ رکھنے والے کارکنان کو ہی متوجہ کر سکتا ہوں۔ کہ وہ اجتماعی سوچ کو مزید توانا اور پر اثر بنانے کے لیے عملی طور پہ ایک مثالی کردار ادا کرنے کے لیے کمربستہ ہوں۔ میری رائے یا سوچ ان لوگوں کے لیے ضرور ایک سازش یا کہ یہ پروپگنڈہ ہوگی۔ جو ایک محدود نقطہ نظر سے سوچتے ہیں۔ میں ان تما م شخصیات ،پارٹی ،تنظیموں اور گروپس کو اجتماعی قومی مفادات کے تناظر میں دیکھتا ہوں ۔ جو جہاں بھی اجتماعی سوچ سے میل نہیں کھاتااسکی نشاندہی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں اور یہ ہر اس بلوچ کا فرض ہے ۔ جو اجتماعی سوچ کو لیکر بلوچ قومی مفادات کا نگہبان ہے جو دوست آج سیاسی کارکنان کو سوچنے سمجھنے کے لیے بولنے اور غور و تحقیق سے روک رہے ہیں۔ وہ بالکل بچوں کو اندھیرے سے ڈرانے کے مانند ہے ۔قومی نفاق،دشمن کو فائدہ ہوگا ،ہم مزید دور ہو نگے،سوشل میڈیل صحیح نہیں وغیرہ وغیرہ تو میرا سوال یہ ہے۔ کہ جو اعمال پچھلے چند سالوں سے قومی سیاست کے نام پہ ان حضرات سے سرزد ہو چکے ہیں وہ کیوں اجتماعی قوت کے تشکیل میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔کیا اس سے دشمن کو فائدہ نہیں ہو رہا ہے ؟اس کمزوری کے بارے میں آگاہی سوچنا بولنا تحقیق کرنا کیسے دشمن کو فائدہ دے سکے گا؟ کیا محدود علاقائی و گروہی سوچ کے تحت گروپس اور پارٹیاں تشکیل دینا اور فخراً علاقائی کارکردگی و گروہیت کی تشریح یا پھر علاقائی حوالے سے کمزوریوں پہ غیر سیاسی انداز میں طعنہ زنی از خود ایک منقسم اور محدود سوچ کی نشاندہی نہیں، مثلاًقومی آزادی کی جدوجہد کے تنا ظر میں قومی جغرافیہ کو لے کر مکران یا ڈیرہ غازی یا کولاچی میں کسی بھی قومی کمزوری پہ کوئی بھی دعوے دار اپنے آپ کو علاقائی حوالے سے بری الذمہ قرار دے سکتاہے۔مثلاً میں مکران کا ہوں جھالاوان کا مسئلہ میرا نہیں۔یا میں بولان کا ہوں تو مکران میں بلوچوں کو درپیش مسئلہ میرا نہیں وغیرہ بصورت دیگر صرف ایک مخصوص علاقے میں کسی ایک چھوٹی سی کامیابی پہ فخر بھٹرک بازی کو لیکر غیر سیاسی غیر انقلابی طریقے سے اسکی تشریح کیا قومی سیاست و قومی سوچ کی نشاندہی کرئے گا۔تو پھر اس کے بارے میں آگاہی پھیلانا ،سوال اٹھانا ،غور و فکر سوچنابولنا،تحقیق کرنا کیسے نفاق ہو سکتا ہے؟
ایک قومی سوچ کے تحت ایک مضبوط اور حقیقی قوت کی تشکیل کا سوال،انقلابی اخلاقیات ،سیاسی اخلاقیات کی پرچار اس پر غور و فکر تحقیق ہمیں مزید کیسے دور کرے گا؟ آج یہ صاف ظاہر ہے کہ موجودہ سیاسی طرز عمل ایک محدودحد تک تو قابل قبول ضرور ہے۔ مگر بلوچ قومی اجتماعی سوچ و مفادات کے معیار کے تحت ہر گز نہیں محدود علاقائی روایتی اور گروہی سوچ کے تحت طرزعمل اپنی بساط لپیٹ چکا ہے۔ تو اجتماعی سوچ رکھنے والے کارکنا ن کے لیے اس اندھیرے میں جھانکنے یا پوری طرح گھومنے کے سواء کوئی چارہ نہیں۔ جس سے ان کو ڈریا جارہا ہے ۔تو دوستوں آج قومی سوچ رکھنے والے تمام کارکنان کو مکمل غیر جانبداری سے اجتماعی سوچ کے معیار کے تحت اپنا زاویہ نظر استوار کرنا ہوگاتاکہ قومی
مفادات کی پہچان آسان ہو۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>