Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Feb 6, 2014 in Articles | 0 comments

انتشار و حقائق – اسلم بلوچ

 

آج کا ہمارا سیاسی منظر نامہ جس انتشار کی وجہ سے مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ اس انتشار کی بنیادی وجوہات بارے حقائق (حقائق قابل غور ہو) جاننا تمام آزادی پسند کارکنان کیلئے بے حد ضروری ہیں۔ اس بابت میں یہ ناقص رائے اس لئے رکھتا ہوں، کیوں کہ گزشتہ تمام عرصے میں آزادی پسند ذمہ دار حلقوں میں اس انتشار کی وجوہات کو جس غیر سیاسی اور روایتی انداز میں لیا گیا۔ وہ مزید اس انتشار کو لیکر دباؤ میں اضافے کا باعث بنیں۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ ہمارے آزادی پسند ذمہ دار حلقے ان مسائل کو جو ہمارے سیاسی جہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ سیاسی انداز میں حل کرتے، اور ان کے نتائج کی تشریح بھی سیاسی انداز میں کرتے۔ مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہونے کی صورت میں آج ہمیں اس صورتحال کا سامنا ہے۔ سیاسی معمولات میں درپیش مسائل کے وجوہات کو روایتی سوچ کے تحت جس نقطہ نگاہ سے دیکھا گیا۔ وہ شاید شروع میں تمام آزادی پسند ذمہ داران کو ذاتی نوعیت کے لگے۔ اور آج کم و بیش یہ تمام حضرات اس کی لپیٹ میں ہیں۔ میں بذات خود اس وقت تک ان کو مختلف سطحوں پہ تقسیم دیکھتا ہوں جو عزائم کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ مثلاً کچھ مصلحت پسندی کے تحت خاموش ہیں۔ اور کچھ حقائق کو چھپانے اور مسخ کرنے کیلئے گمراہ کن حربوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اور کچھ سیاسی فوائد حاصل کرنے کیلئے بظاہر مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مگر درپردہ ان حالات کے وجوہات کو دو فریقین کے آپسی ذاتی جھگڑے سے جُوڑ کر خود کو تیسری بالغ نظر ، دور اندیش، سیاسی و غیر جانبدار قوت کے طور پر متعارف کرنے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ان حالات میں فائدہ اُٹھانے کیلئے ان تمام کے سیاسی مخالفین بھی میدان عمل میں موجود ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ کچھ انقلاب دشمن قوتیں بھی ان حضرات کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانے میں پیچھے نہیں۔ ان کے علاوہ آزادی پسند دانشوروں کی اکثریت بھی تحقیق و معلومات کے بغیر روایتی گرمجوشی میں ذاتی خدشات کو لیکر نصیحت کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ سیاسی کارکنان کے جذباتی لگاؤ نے بھی خدشات اور مفروضوں کا ایک طوفان اُٹھا رکھا ہے۔ جنہیں میں بیان کر چکا ہوں۔ ان تمام سے ہٹ کر میں جن حقائق کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں، وہ ہمارے ابتدائی جُہد کو لیکر ایک تسلسل رکھتے ہیں۔ اور یہ جو مسائل آج ہمیں نظر آرہے ہیں جن میں اپنے ابتدائی حیثیت کو لیکر سنگت حیر بیار مری کے بارے سفارتی مسئلہ پہ اختلاف ، 13 نومبر ، چارٹر، بی ایل اے کا مشروط جدو جہد کیلئے عندیہ اور اگر کچھ اور دور 2008ء
میں دیکھیں جنگ بندی کا اعلان ، سنگت حیر بیار مری کا آزادی پسند قیادت میں اختلافات کی نشاندہی کیلئے اخباری بیان ۔یہ سب کچھ اپنے انتہا کیلئے آج عوامی دہلیز پہ دستک دے رہے ہیں۔ ان تمام کے باوجود حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی وجہ سے یہ انتشار اور دباؤ مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس انتشار کے پیچھے کار فرما وجوہات اپنے اندر جس تسلسل کو سمیٹ کر بیھٹا ہے۔ وہ ہمارے ذہنی سطح سے تعلق رکھتا ہے۔ جس کا سر چشمہ ہمارے آزادی پسند ذمہ دار حلقے ہیں۔ یہ آج کی بات نہیں اس کو پچھلے پانچ سالوں سے محسوس کیا جا رہا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً اس کا اظہار بھی ہوتا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے زیادہ کھل کر نہیں اشاروں میں۔ مگر اس میں روک تھام کی بجائے اضافہ ہوتا رہا ہے۔ اور انتہا کی طرف جاتے ہوئے اس انتشار کی نوعیت کو ہم محسوس کر رہے ہیں۔ میں اپنا قومی فرض سمجھتا ہوں اس اظہار کو جس کا بحیثیت فرد میں گواہ ہوں۔ میں شاید کمزور ذہنیت کا مالک ہوں۔ مزید صبر کو گناہ سمجھتا ہوں۔ اور مجھے حیرت و افسوس اس امر پہ ہے کہ ہمارے سیاسی کارکنان اور آزادی پسند حلقوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی مسائل ہیں ، سیاسی حل چاہتے ہیں۔ یہ مل بیٹھ کر بانٹنے کے فارمولے سے حل ہی نہیں ہونگے۔ میں حقیقی وجوہات کی نشاندہی اپنے محسوسات اور نقطہ نگاہ سے کرونگا۔ ہوسکتا ہے میرے اس طریقہ کار سے دوستوں کو اختلاف
ہو۔ مگر مجھے یقین ہے کہ میری باتوں سے کسی کو اختلاف نہیں ہوگا۔ کیوں کہ یہ وہ حقائق ہیں، جو ہمارے آج کے انتشار کی بنیادی وجوہات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نقطے کو میں بیان کر رہا ہوں، اسے آپ ضرور مد نظر رکھیں۔ ہم سائنسی تحریک کی بات تو بہت کرتے ہیں۔ آیا ہم اپنی تحریک کے سائنسی پہلو کو سمجھتے ہیں بھی یا نہیں۔ جہاں کہیں بھی ایسے حالات درپیش ہوتے ہیں، جن کا آج ہمیں سامنا ہے۔ یعنی ایک ہی مقصد کو لیکر مختلف قوتوں کا الگ الگ شناخت اور مقام الگ حکمت عملیوں کے تحت جدو جہد کرنا ، جدو جہد کے دوران سرانجام دینے والے ان کے عمل کے نتائج کم و بیش ان کے مقصد کو لیکر یکساں ہوتے ہیں۔ (ہمارے ہاں تو اب تک حکمت عملی بھی یکساں ہے۔ انڈر گراؤنڈ مسلح گوریلا طریقہ کار مارو اور چھپ جاؤ، کھلے عام سیاسی محاذ میں مظاہرے، تعزیتی ریفرنسز اور اخباری بیانات)اوریہ یکساں نتائج ان کے بیچ ایک ربط و کنٹرول کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور ایسا بھی نہیں ہوتا کہ وہ باہمی ربط و کنٹرول کیلئے کسی تحریری متفقہ معاہدے سے گزر کر سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔ بصورت دیگر اگر ان کے عمل کے نتائج متضاد ہوں۔ تو یہ نتائج بذات خود ان کے بیچ متضاد سوچ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اور بلوچ جہد میں یہ ربط و کنٹرول ہمیں اکثر مقامات سے غائب نظر آتا ہے۔ اس وقت تک جن وجوہات تک میرا ذہنی حواس پہنچ چکا ہے۔ ان پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ اس سے قبل یہاں جو کچھ ہو چکا ہے، اور اب ہو رہا ہے۔ وہ بہت ہی مختلف اور الگ ہے۔ اس سب کچھ سے جس کو پیش کیا جا رہا ہے جو منظر کشی آج ہو رہا ہے۔ وہ حقائق سے کسی صورت میل نہیں کھاتا۔آج اس دباؤ اور انتشار کیلئے صرف اور صرف لکھاری اور سوال اُٹھانے والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ تفصیل سے پہلے میں یہاں ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں، تاکہ پڑھنے والوں کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ کیا یہ باعث حیرت نہیں کہ آزادی پسند ذمہ دار حلقے جن میں سر فہرست نواب خیر بخش مری ، سنگت
حیر بیار مری ، استاد واحد قمبر، ڈاکٹر اللہ نذر ، میر براہمدغ بگٹی ، میر جاوید مینگل اور بقول اختر ندیم کے واجہ خلیل بلوچ ، بانک کریمہ بلوچ، عرفی بلوچ خان وغیرہ کے ہوتے ہوئے اتنا انتشار کیوں؟ یہ دباؤ کیوں؟ (جسے کچھ ہوش مند دوست بلیک میلنگ قرار دے رہے ہیں) اور کچھ خیر خواہ بڑی تشویش کے ساتھ چند نام نہاد لکھاریوں کی شرارت یا مخفی دوست نما دشمنوں کی کار ستانیاں قرار دے رہے ہیں۔ تو اتنے سارے (بقول انہی حضرات کے میں اعزازی لقب دینے کے معاملے میں ذرا کنجوس ہوں) قومی انقلابی لیڈروں، گوریلا ہیروز ، ویژنری قیادت کی موجودگی میں یہ دوچار شریر لکھاری اور چند مخفی دوست نما دشمنوں نے ایسا اُودھم مچایا ہے۔ جس سے اتنا انتشار اور دباؤ پیدا ہوچکا ہے کہ ایک بحرانی کیفیت کا تاثر اُبھر کر مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ (ایک وقت وہ تھا جب دشمن شہید اکبر خان بگٹی کے قتل کا الزام شہید بالاچ پہ، اور شہید بالاچ کے شہادت کو براہمدغ بگٹی کے سر تھونپ رہا تھا، ہمارے ہاں ایسے سوالات ذرہ برابر توجہ حاصل نہ کر سکے۔ اور آج معمولی سوالات کیلئے ہمارے اندر اتنا اشتعال کیوں ہے؟ کچھ تو ہوگا جس کی پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔) اور بد قسمتی دیکھیں کہ ان شریر لکھاریوں اور مخفی دوست نما دشمنوں کی پہچان بھی ہو چکی ہے۔ تو یہاں سوچنے والی بات یہ ہے کہ اتنے سارے انقلابی لیڈرز، گوریلا ہیروز، ویژنری قیادت کو دو چار شریر لکھاری ایسے بحرانی کیفیت میں جھکڑ لیتے ہیں۔ جس سے وہ پچھلے تین سالوں سے نکل نہیں پاتے۔ تو اس قابض ریاست ، اس کی اتنی بڑی عسکری طاقت اور شاطرانہ و منافقانہ چالوں سے کیسے نکلیں گے۔ اور اس بد نصیب قوم کو کیسے نجات دلائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سوال کی اہمیت سے بھی انکار ہو ،جس کا مجھے خدشہ ہے۔ مگر حقائق سے کوئی کب تک انکار کرے گا۔ ویسے ہمارے ہاں حقائق سے فرار کیلئے بڑے بچگانہ اور غیر اخلاقی طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ جو درپیش مسائل کو حل کرنے میں اور بھی مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے اول ہمارے ہاں کسی بھی منفی اور متضاد عمل کی نشاندہی کو لیکر کوئی با ضابطہ طور داخل دفتر کرنے کیلئے کوئی طریقہ کار نہیں۔ مقصد ایک ، طریقہ کار ایک ، اب تک حکمت عملی ایک (اپنے طور سرگردانی کو حکمت عملی کا نام میں نہیں دونگا وہ زیر غور نہیں) عمل کے نتائج متضاد، جب عمل کے نتائج یکساں نہیں۔ تو غور ہو کہ بیچ میں کچھ تو ضرور ہے۔ تمام قوتوں نے ایک ہی مقصد کو لیکر اپنے( شناخت نہیں) ، وجود کو ایسے ترتیب دیا ہے کہ ان کی طرف دیکھنا بھی گناہ ہے۔ جیسے قومی تنظیم اور پارٹی نہ ہو ، کسی مولانا کی بیٹی ہو۔ اس موجودہ سیٹ اپ میں مجھے اکثریت کا پتہ نہیں ۔لیکن کچھ ایسے لوگوں کو میں ضرور جانتا ہوں، جو بحثیت قومی رضاکار آج سے نہیں 1994ء سے جو میری پہچان کی حد ہے، بلکہ اس سے بھی پہلے ہلمند (افغانستان) سے ایک تاریخ لیکر جدو جہد کر رہے ہیں۔ ان کی سنگت میں رہے کر یہ سمجھنا ہمارے لئے مشکل نہیں کہ ایک پارٹی اور اس کے ادارے کیا ہوتے ہیں۔ (بقول اختر ندیم مقدس ادارے) اور ان میں مداخلت کیا ہوتا ہے ، اس بارے بہت زیادہ نہیں کچھ نہ کچھ جانتے ہیں۔ میری ناقص رائے کے مطابق اداروں میں مداخلت اور پالیسیوں یا متضاد سرزد عمل پہ سوال اٹھانے میں فرق سیاسی کارکنان کو سمجھنا چائیے۔ بحیثیت رضاکار میرا ہم مقصد ہونے کے ناطے وہ میرا ہے۔ بی این ایم میری پارٹی ہے ، بی آر پی میری پارٹی ہے ، بی ایل ایف، بی ایس او یہ سب بلوچ ہونے کے ناطے میرا ہیں ، ایک سیاسی رضاکار ہونے کے ناطے مجھ سے جو بن پڑتا ہے ، میں کرتا ہوں ، چاہے وہ ان پارٹیوں کیلئے صرف اور صرف ایک جھنڈا خرید کر دینے کی اوقات ہو ں، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں مگر جب میں کسی متضاد سرزد عمل کی نشاندہی کرتا ہوں۔ تو میں غیر اور ان کے اداروں میں مداخلت کرنے والا یا پھر دشمن کہلاتا ہوں۔ یہ کیوں ؟ میری طرف سے یہاں یہ ذکر شاید مناسب ہو کہ بلوچستان نیشنل پارٹی اور نیشنل پارٹی کو جو لوگ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ وہ کس سیاسی جواز کے تحت اس تنقید کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر واقعی کوئی حق ہے۔ اور اس حق کو کوئی اور سیاسی رضاکار ان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ تو وہ دشمن ، سازشی اور توڑنے والا کیسے بن جاتا ہے۔ یہ سوچ بذات خود قومی بلوچ سیاست میں پرتضاد عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایسے کہ اگر کوئی حضرت اپنے کسی بھی پر تضاد اور منفی عمل کی نشاندہی اور اس پہ تنقید کو اپنے جداگانہ گروہی حیثیت میں مداخلت قرار دے گا۔ چاہے وہ بی ایل اے ہو یا بی ایل ایف یا بی این ایم و بی ایس او ہو، تو پھر وہ محترم خود کس حق کو لیکر بی این پی یا نیشنل پارٹی کے کسی بھی متضاد عمل یا منفی سرگرمیوں بارے نشاندہی کرکے ان کے جداگانہ حیثیت میں مداخلت کرکے کیسے تنقید کریگا ۔ کیا یہ بادشاہت کو لیکر درباری طرز عمل نہیں ہوگا؟ ویسے ہونا تو یہ چائیے کہ قومی سیاست میں کسی بھی سطح پر کوئی بھی متضاد یا منفی عمل سرزد ہو اس کی نشاندہی حقائق کی بنیاد پر سیاسی انداز میں سیاسی حدود کے اندر ہونی چائیے بصورت دیگربیان کردہ جواز یا نشاندہی شدہ عوامل ہی حقائق پر مبنی نہ ہو۔ وہ بے بنیاد اور گمراہ کن ہو۔ تب بھی ان کیلئے یہی طریقہ و انداز اپنا کر ان کو حقائق کی بنیاد پر گمراہ کن اور بے بنیاد ثابت کیا جائے۔ یہ کیسے ثابت ہو کہ دشمنی کے حدود کیا ہیں؟ اداروں کی حیثیت اور ان میں بیرونی مداخلت کسی بھی سطح پر اس کے حدود کیا ہیں؟ صلاح مشورہ کیلئے حیثیت ، علم، قابلیت اور اختیار کے حدود کیا ہیں؟ کسی متضاد عمل کیلئے نشاندہی کی اصولی حدود کیا ہیں؟ دوستی اور دشمنی کیلئے عمل ، گفتار کے حدود کیا ہیں؟ عقل مندی کیا ہوتی ہے؟ اور بے وقوفی کیا ہے؟ آج ان تمام باتوں کی وضاحت بے حد ضروری ہیں۔ میرے پڑھنے والے برائے مہربانی قربانی، قید و بند کی صعوبتیں ، بے گھر ہونا، جلا وطنی، باپ، بیٹے، رشتہ داروں کا شہید ہونا ، گھروں کا مسمار کرنا ، جلانا ان تمام کو ایک طرف رکھیں۔ کیوں کہ یہ جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعئے غلطیوں اور صلاحیتوں کے فقدان پہ ریلیف لینے کے زمرے میں آتے ہیں۔ اور آج کل بڑے بہتر انداز میں ان کا استعمال بھی ہو رہا ہے۔ کسی دوست نے اپنے بھائی کی شہادت کے حوالے سے پارٹی پہ احسان جتانے کی کوشش کی۔ تو میں نے یہ سوال رکھا کہ آپ کے تین دیگر بھائی سرکاری ملازم ہیں ۔اور کزن پولیس میں ملازم۔ تم ان کے کردار کی ذمہ داری بھی اٹھانے کیلئے تیار ہو، شہید کے ساتھ رہنے مشترکہ سوچ کے حوالے سے ہو
سکتا ہے۔ تمھارا کوئی کردار ہو، مگر اپنے مفاد کیلئے شہید کے کردار کو مسخ مت کرو۔ جو تمھارا کردار ہے اس کو بہتر کرو۔ اگر کوئی حضرت شہید بالاچ مری کی شہادت کا کریڈٹ سنگت حیر بیار مری یا نواب خیر بخش مری کو دے گا۔ تو کیا یہ سوال پیدا نہیں ہوگا کہ جنگریز مری کے کردار کا کون ذمہ دار ہے؟ اور جدو جہد کے تمام عرصے میں جلا وطنی سے لیکر شہادت تک سوائے
فکری وابستگی اور تنظیمی نظم کے محنت، تکلیف، سردی، گرمی تمام کے برداشت کرنے میں بالاچ شہید کے ساتھ کون رہا ؟ اور اگر اسلم بلوچ عرفان سرور کی شہادت کو لیکر اپنا سینہ چوڑا کرے گا۔ تو کیا باقی رشتہ داروں کے سرکاری ملازمت اور گھر بیٹھے زندگی گزارنے پر بھی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہوگا؟ یہ قابل غور ہے کہ کوئی تنظیم ، پارٹی یا شخصیات اگر بار بار ریاستی جبر یا پھر اس جبر سے وابستہ حساس اور روحانی پہلو (شہداء ) کا سہارا لیں۔ تو ان کے پروگرام کارکردگی ، کردار، محنت میں ضرور کوئی کمی ہوگا۔ کیوں کہ جو نظریہ یا پروگرام انسانی لہو کا تقاضا کرتا ہے۔ انسانی لہو سے آبیاری بذات خود اس نظریے اور پروگرام کی عظمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ جہاں ایسے عظیم نظریہ اور پروگرام کے ہوتے ہوئے اس پر قربان ہونے والوں کا سہارا لیا جائے، ان کی قربانیوں کی حیثیت و مقدار کا تقاضا ہو تو یہ عمل بذات خود اشارہ کرتا ہے کہ اس عظیم نظریہ اور پروگرام کے تقاضوں سے روگردانی ہو رہی ہے۔ ایک انقلابی تنظیم کیلئے اجتماعیت کے نظریے کے تحت مثلا بی ایل اے کیلئے ہر وہ بلوچ جس کا تعلق بلوچ گلزمین کے کسی بھی کونے سے ہو، اور وہ ریاستی جبر کا شکار ہو، وہ نقصان کے حوالے سے بی ایل اے کا ہے۔ بحیثیت انقلابی تنظیم کے وہ اس کا وارث و ذمہ دار ہے۔ چاہے اس کا انتظامی تعلق بی ایل اے سے ہو یا نہ ہو۔ تو پھر اس فکر سے متضاد تعداد کی شمار برسی وغیرہ پہ جداگانہ حیثیت کیلئے پرچار چہ معنی دارد۔ تو یہاں اس پہ غور ہو کہ جبر کی نشاندہی اور جبر سے شرمناک طریقے سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے بیچ بھی حدود کا تعین نہایت ضروری ہے ۔کیوں کہ یہ دونوں متضاد عمل ہیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک نظریے بابت پروگرام کو لیکر نکلتا ہے۔ جب وہ نکلتا ہے۔ تو با لکل اکیلا ہوتا ہے۔ ہزاروں لوگ اس کے نظریے سے متفق ہوکر اس کے کاروان میں شامل ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے ہزاروں اس نظریے اور پروگرام پر قربان ہوتے ہیں۔ اس بیچ میں کوئی اس نظریے اور پروگرام سے ہٹ کر قربان ہونے والوں کی قربانی پر ناچنا شروع کردیں۔ تو یہ عمل کیا کہلائے گا؟ کم و بیش ہمارے سیاسی میدان میں با لکل یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ آزادی کے متعلق اجتماعی نظریہ اور پروگرام کیلئے اجتماعی قوت کے حصول سے روگردانی آج ہمیں شہداء اور ریاستی جبر کے سہارے زندہ رہنے پہ مجبور کر رہا ہے۔ تو برائے مہربانی انصاف یہاں بھی تقاضہ کرتا ہے کہ قومی وراثت کے دعوے دار بن کر 1973 اور اس سے پہلے انگریز کے خلاف لڑنے والے بلوچوں کے وارث بنو۔ ان تمام شہداء کے فکر کو لیکر اپنے اعمال درست کرو۔ گھر روزانہ بلوچوں کے جلائے جاتے ہیں، بیٹے شہید کئے جاتے ہیں ،گھر ڈیرہ بگٹی میں بہت جلے، کاہان میں جلے، کوئٹہ شہر میں ہزار گنجی میں پچھلے دس سالوں سے مسمار ہوتے آ رہے ہیں۔ ارباب کرم خان روڈ پہ پچھلے سال شیید بالاچ کا گھر لوٹا، جلایا اور گرایا گیا۔یہ بیان کرنا ضروری نہیں کیا کیا ہوا ہے۔ کیوں کہ جو کچھ ہوا، اس کو سب دیکھ رہے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ یہ کیوں ہو رہا ہے؟ اس کو کیوں ہم ساٹھ سالوں سے روک نہیں سکتے ؟ اس روک نہ سکنے کی وجوہات کیا ہیں؟ تو یہاں بد بختی دیکھیں، ہم دشمن کے جبر و بر بریت سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جبر اور بربریت کو اپنی طاقت نہیں بناتے۔ ایک قومی رضا کار کیلئے کسی غریب کا جھونپڑی جلے یا سنگت حیر بیار مری کا بولک ، دونوں کی تکلیف یکساں ہونا
چائیے بلوچ کا گھر مکران میں جلے یا ڈیرہ بگٹی، کاہان، ساراوان یا جھالاوان میں، دکھ، تکلیف ایک ہی ہونا چائیے۔ اور ضروری یہ ہے کہ ہم جلد از جلد حقائق کا سامنا کریں۔ ان حقیقی عوامل کو ڈھونڈ کر ان پہ کام کریں۔ جو ہماری جدو جہد میں حقیقی طور رکاوٹ ہیں۔
میں عمل کے مشترکہ یا کم و بیش یکساں نتائج کی طرف آتا ہوں۔ جو ہمارے تفرق اور تقسیم کو سمجھنے میں شاید کچھ نہ کچھ آزادی پسند کار کنان کو مدد دیں۔ ایک دو مثال جو ہماری جہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ جب ریاست کی طرف سے اسیران کو دوران حراست قتل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا، کچھ حالات تبدیل ہوئے، تو مچھ سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں نے مچھ کیقریب ایک مزاحمتی تنظیم کے کیمپ آکر ساتھیوں کے سامنے یہ جواز پیش کیا کہ حالات مناسب نہیں، اور اس سے پہلے ہم مکران میں ساتھیوں کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اور اگر اجازت ہوتو اب ہم آپ کے ساتھ مل کر اس علاقے میں کام کریں گے۔ تو ذمہ دار ساتھیوں کی طرف سے ان کو اس ہدایت کے ساتھ کہ آنے جانے اور فون کے استعمال میں احتیاط کے ساتھ اپنے پہلے والے یعنی مکران کے ساتھیوں کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں۔ کیوں کہ اس علاقے میں ضروریات زیادہ ہیں، مگر مشکلات کم۔ مکران کے
دوستوں کو بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔ اس لئے وہاں کام کی زیادہ ضرورت ہے۔ آپ ساتھی اپنے پہلے والے سیٹ اپ میں رہ کر کام کریں۔( ابتداء میں بی ایل ایف اور بی ایل اے کی مشترکہ کاروائیاں زیر بحث نہیں ) اور مکران کے اکثر ساتھی جن میں شہید طارق کریم بھی شامل ہیں۔ ان کی اس خوائش کو کہ ہم بی ایل اے کے پلیٹ فارم سے جدو جہد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو یہ سوچ اس ہدایت کے ساتھ دی جاتی ہے کہ مکران میں بی ایل ایف کام کر رہی ہے۔ تو ضرورت کیا، آپ دوستوں کے ساتھ رہ کر کام کریں۔ ابتداء سے لیکر 2012ء کے اختتام تک پورے مکران میں بی ایل اے کی طرف سے جداگانہ حیثیت میں سرگرمیاں نہ کرنے کی پالیسیاں یکجہتی کو لیکر اجتماعی سوچ کی نشاندہی کیلئے کافی ہیں۔ (آج کے حالات زیر بحث نہیں) سوچ پالیسی اور عمل یہاں ایک نتیجہ دیتے ہیں۔ اب آتے ہیں دوسری طرف، مکران میں ایک مزاحمتی کیمپ میں جب رات کو فکری نشست کا اہتمام ہوتا ہے۔ تو اس نشست میں ابتداء اپنی تنظیم کی تعریف سے، اور انتہا دوسرے تنظیم کے بارے قائم کردہ بے بنیاد مفروضوں پر ہوتا ہے ۔جس میں ان کیلئے قبائلی، ان پڑھ، غیر سیاسی وغیرہ کا پرچار ہوتا ہے۔ اب یہ سوچ، پالیسی اور عمل با لکل متضاد نتیجہ دیتے ہیں۔ اور اسی ایک مقصد کیلئے کام کرنے والے تیسری تنظیم دوسرے تنظیموں کے کار کنان کو اپنی تنظیم میں
شمولیت کرنے پر زیادہ مراعات، سہولت وغیرہ کی پیش کش کرنے کیلئے دن رات سرگرداں نظر آتا ہے۔ اور بہت سے مقامات پہ ان کو کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے۔ تو یہ سوچ،
پالیسی اور عمل ایک اور متضاد نتیجہ دیتا ہے۔ تو اب یہ تین متضاد نتائج کس طرح کے ربط اور کنٹرول کو لیکر ایک ہی مقصد کیلئے سود مند ثابت ہونگے ۔تو ان کی نشاندہی اور ان پر سوال اٹھانے والا شریر نام نہاد دوست نما دشمن ہی ہو سکتا ہے۔ شروع سے تسلسل کے ساتھ پیش آنے والے ایسے ہزاروں واقعات ہیں۔ اگر موقع دیا گیا، اور سیاسی طرز عمل اپنایا گیا، تو ذمہ دار حلقوں کے بیچ پیش کرکے ان کی تدارک کی کوشش کرونگا۔ اگر دروازے بند ہوئے ، حربے استعمال کئے گئے تو مجبوراً کار کنان سے رابطہ ہوگا۔ ان میں سے ایک اور مثال یہاں میں پیش کرناضروری سمجھونگا۔ مکران میں قومی جدوجہد کیلئے ابتدائی کوششیں سنگت حیر بیار مری کا 1996ء میں استاد واحد قمبر سے رابطہ، استاد واحد قمبر کی طرف سے مشروط جدو جہد کیلئے رضا مندی، اور پھر 2000ء اور 2001 ء کی کوششیں، بحث مباحثے اور ان کے نتائج، بی ایل ایف کی بنیاد کیلئے جواز، اس کے پیچے کار فرما سوچ، ان سب کے
بارے میں معلومات کو لیکر جب مئی2007 ء میں نوشکی کے قریب کیمپ میں ڈاکٹر اللہ نذر ، شہید سعادت عرف ماموں مری اور میں ایک نشست میں ساتھ تھے مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کو بھی ضرور یاد ہوگا۔ بولان میں میری غیر موجودگی میں بولان کے ساتھیوں کے حوالے سے سعادت عرف ماموں مری کو کچھ عرصے کیلئے ذمہ داریاں سونپنے کیلئے صلاح و مشورے ہورہے تھے۔ جب ماموں شہید کے سامنے یہ تجویز رکھا گیا، تو ماموں کی طرف سے یہ شرط کہ میں بولان جاکر کام ضرور کرونگا، مگر بی ایل اے کی زیر نگرانی نہیں ، بی ایل ایف کی زیر نگرانی کرونگا۔ ایسے ذمہ دار حلقے سے ایسی سوچ کی توقع مجھے ہرگز نہیں تھی۔ میں اپنی حیرانگی کے ساتھ ساتھ اپنے جذباتی ردعمل کو نہیں روک سکا ۔اور میں نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ کیا ہے؟ B L F, B L A ان کی حقیقت کیا ہے؟ اور ہم سوچ کیا رہے ہیں؟ ڈاکٹر اللہ نذر نے کہا کہ استاد آپ سمجھ نہیں پائے۔ میں نے کہا ڈاکٹر یہ سیدھی سی بات ہے کہ اگر ہمارے اس ذمہ دار سطح پہ ایسا سوچا جاتا ہے، تو ہمارے دیگرساتھی ، کارکنان، ہمدردان کیا سوچ رکھیں گے۔ (اختر ندیم کا بی ایل ایف کے چارٹر کا ذکر زیر غور نہیں) ہوتے ہوتے آج بی ایل ایف اور بی ایل اے آپ کے سامنے ہیں۔ اس تفریق کیلئے ذمہ دار سوچ ہمارے اندر شروع سے تسلسل کے ساتھ پرورش پا رہی ہے۔ اور اس کے تقویت پانے میں یہ کمزوری بھی کار فرما ہے کہ اتنے طویل عرصے کے جدو جہد میں اتحاد و یکجہتی کے حصول میں حائل اصولی رکاوٹ جس میں اول اعتماد کا فقدان ہی ہو سکتا ہے مثلا اگر بی ایل ایف کے ساتھیوں کو بی ایل اے کے ذمہ دار حلقوں یا ان کی پالیسیوں یا پھر حکمت عملی بارے کسی بھی قسم کے خدشات کو لیکر بد اعتمادی کا سامنا ہے تو ان کے وجوہات آج تک سامنے کیوں نہیں آئے (2007ء سے مسلسل 2011ء تک وہ کوششیں جن میں دونوں تنظیموں کو یکجا کرنے کیلئے بی ایل اے کے ساتھیوں کی طرف سے پیش پیش رہنا اور بی ایل ایف
کے ساتھیوں کا مکمل سرد مہری زیر بحث نہیں) میرے خیال میں بی آر اے اور لشکر بلوچستان کیلئے کسی مثال کی ضرورت نہیں۔میںآگے جانے سے پہلے ایک اور مثال دونگا۔ 2007ء میں کسی گھریلو مسئلے بارے دو فریق ہمارے پاس آئے۔ مجھے ان کا مسئلہ کچھ بھی سمجھ نہیں آیا۔ میں نے ان کو اپنے کسی قبائلی معتبر یا پھر نواب صاحب کی طرف جانے کا مشورہ دیا۔ کچھ دن بعد جب وہ دوبارہ میرے پاس آئے۔ میرے پوچھنے پر انہوں نے اپنے احوال میں کہا کہ ہم نواب صاحب کے پاس گئے تھے۔ اور مسئلے کے بارے میں ان کو آگاہی دی۔ اور آپ کا نام لیکر بتایا کہ آپ کو بھی ہمارے مسئلے کے بارے میں مکمل معلومات ہیں۔ تو میرے پوچھنے پر کہ نواب صاحب نے کیا کہا؟ تو انہوں نے بتایا کہ نواب صاحب نے کہا کہ وہ تو حیر بیار کا ساتھی ہے۔ میں اس کو اچھی طرح نہیں جانتا۔ یہ سن کر مجھے سخت حیرت اور صدمہ ہوا۔ اور میں اس بات کے متعلق سوچتا رہا کہ یہ کیا بات ہوئی ۔دو چار دن سوچ بچار کے بعد اپنے آپ کو اس بات پہ تسلی دی کہ ہو سکتا ہے سیکیورٹی کا مسئلہ ہو۔ جو تقسیم، تفریق شروع سے ہماری نیت میں تھی۔ اس کو ظاہر ہونا ہی تھا سنگت حیر بیار مری اور میر مہران کے مسئلے میں جب ابتدائی معلومات ہم تک پہنچیں۔ اور ہماری طرف سے اس معاملے کے سدھار بارے کسی بھی طرح کے کردار ادا کرنے سے پہلے ہم پر 2007 ء والا لیبل لگ چکا تھا۔ یعنی سنگت حیر بیار کے ساتھی۔ اور اس کے ساتھ ہی جب ہم دوسری طرف نظر دوڑائیں۔ یعنی غیر مسلح محاذ کی طرف، تو وہاں بھی ہمیں یہ تماشا ذرا اور زیادہ شرمناک انداز میں ملے گا۔ اس بات کیلئے ہزاروں سیاسی کار کنان بطور گواہ موجود ہیں کہ اسٹیج کے صدارتی تقریر ملنے یا نہ ملنے، اور اپنی مرضی کے تصاویر لگانے اور نہ لگانے پر اختلافات، ناراضگیاں آزادی پسند ذمہ داران کے ماتھے کا جھومر ہیں۔بی این ایف کے انجام کا سہرا کچھ دوست سنگت حیر بیار مری کے سر زبردستی سجانا چاہتے ہیں۔ مگر شاید زاہد کرد صاحب بھی اس بات کے گواہ ہوں کہ مختلف جلسے جلوسوں اور تقاریب میں اسٹیج کی صدارت اور تقاریر اور اخباری بیانات جاری کرنے یا نہ کرنے کیلئے اتحادی کیسی کیسی حرکتیں کرتے تھے۔ ایک دوسرے کو اتحاد سے نکالنے کی وجوہات کھبی بھی سیاسی اصولی یا نظریاتی تضاد کی بنیاد پر نہیں ہوئے ہیں۔ یہاں اب تک لوگ بی این ایف کونہیں بھول پائے ہیں۔ اور کیا نئے اتحاد کیلئے شوشہ قابل حیرت نہیں؟ اتحاد ایک ایسا عمل ہے، جس سے کوئی بد بخت و بد قسمت انکار کرے گا۔ مگر پہلے والی اتحادیں جن انجام سے دوچار ہوئیں کیا ان کے حساب کا مطالبہ اصولی نہیں؟ سنگت حیر بیار مری سمیت جو بھی بی این ایف کے شرمناک انجام کا ذمہ دار ہے اس کو سامنے لاکر اس کے عمل کا احاطہ کیا جائے۔ پھر شاید دوسری اتحاد کیلئے کوشش سود مند ہو۔
بہت سے حیرت انگیز واقعات میں سے ایک اور میرے لئے باعث حیرت ثابت ہوا۔ شہید غلام محمد کی شہادت سے تقریبا آٹھ ماہ قبل کراچی میں اتفاقاً ایک بزرگ کامریڈ سے ملاقات ہوئی۔ تین گھنٹے کی ملاقات میں کامریڈ بزرگ نے شہید غلام محمد کی مخالفت میں زمین آسمان ایک کردی۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس بات پہ زور دیتا رہا کہ سنگت حیر بیار مری
شہید غلام محمد بلوچ کو کیوں کر کمک کر رہا ہے۔ اس کو اس طرح نہیں کرنا چائیے۔ میرا کامریڈ بزرگ کو آخری مشورہ یہ تھا کہ غلام محمد بلوچ کو جو بھی سپورٹ کر رہا ہے۔ آپ یہ باتیں ان کے سامنے رکھیں۔ اس وقت وہ مخالفت سمجھ میں آنے والی بات تھی۔ مگر شہید غلام محمد کی شہادت کے بعد ان کے نام سے پارٹی بنانا میرے لئے باعث حیرت ثابت ہوا۔ یہ سوچ اور ذہنیت کے لوگ آج بھی اپنے ماضی کے طرز
عمل سے تحریک کی تقویت میں رکاوٹ بنکر مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اور پھر سوال اٹھانے یا کسی بھی تضاد کی نشاندہی پر مشتعل ہوکر من گھڑت قصے کہانیاں ترتیب دے کر ماحول کو مزید پراگندہ کر رہے ہیں۔ یہ چند مثالیں میں نے اس لئے آپ لوگوں کے سامنے رکھنے کی کوشش کی، تاکہآپ
دوستوں کو کچھ اندازہ ہو۔ ان مسائل کی بنیادی وجوہات میں سے کچھ ٹھوس حقائق یہ بھی ہیں، جن کی مکمل پردہ پوشی ہمارے کردار کشی سے لازم و ملزوم ہوچکی ہے۔ بے بنیاد الزامات کو لیکر دباؤ کا مقصد صرف اور صرف ہمیں چپ کرانا مقصود ہوتا ہے۔ شروع دن سے ہم نے اپنے سوجھ بوجھ کے مطابق اجتماعیت کے مقابلے کسی بھی منفی یا متضاد عمل کو محسوس کیا یا اس کی نشاندہی کی، اور جہاں کہیں یہ ضروری سمجھا کہ اس عمل کے متعلق اپنا نقطہ نظر تمام آزادی پسند دوستوں کے سامنے رکھیں۔ تو اس اظہار کا مقصد بھی واضح یہ رہا کہ مختلف زاویوں سے ایسے متضاد اور منفی عمل کی جانچ پرکھ ہو۔ تاکہ بہتر نتائج برآمد ہوں۔ بد قسمتی سے یہی سوچ ہمارا جرم ٹھہر اور رد عمل میں کسی نے کہا کہ یہ تو توجہ حاصل کرنے کیلئے ہو رہا ہے۔ کہیں سے آواز آئی کہ یہ سب لیڈری کے شوق میں ہو رہا ہے۔ اور کچھ صدائے احتجاج لیکر اس کو بلوچوں میں انتشار کا سبب بیان کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ ڈکٹیٹر شپ ہے۔ جتنے منہ اتنی باتیں، اپنی صفائی میں ، عرض، گزارش کو ہم نے کم از کم اپنے منہ میاں مٹھو کے مترادف سمجھا۔ اور روز اول سے توجہ صرف اور صرف مسائل کو لیکر ان کی وجوہات کی نشاندہی پر رہی۔ مقابلے میں الزامات مزید شدید ہوتے ہوتے من گھڑت قصہ کہانیوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ ان کی طرف آنے سے پہلے ایک واقع بیان کرنا ضروری سمجھوں گا۔ اگست 2010ء میں اپنے ایک محترم بزرگ نظریاتی استاد سے سنگت حیر بیار مری اور میر مہران مری والے مسئلے بابت کوششوں بارے ملاقات میں میرے بزرگ نظریاتی استاد نے میری سیھٹی اس جملے کے ساتھ گم کردی کہ تم لوگ کیا حیر بیار حیر بیار کرتے ہو ، کیا وہ پہاڑوں میں رہا ہے ؟ کیا کیا ہے اس نے؟ میں نے نہایت ادب سے کہا کہ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ اس نے کیا کیا ہے ، یہ سوال آپ کیسے اٹھا رہے ہیں؟ میں نے اپنے سوال کو اس دلیل کے ساتھ بڑھاوا دیا کہ کیا یہ امریکی فوجی جو افغانستان اور عراق میں لڑ رہے ہیں ان کے کمانڈر پیٹا گون میں بیٹھ کر جنگ کو کمان نہیں کر رہے ہیں؟ میرے دلیل کے بدلے ان کے روایتی جواب نے مجھے اور زیادہ حیرت زدہ کردیا، کہ کیا تم لوگ اپنے آپ کو امریکی سمجھتے ہو؟ میں نے جواب دیا ہرگز نہیں۔ مگر طریقہ کار تو وہی ہے۔ رفتہ رفتہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہی سوال ہر طرف سے اٹھایا جا رہا ہے۔ (جو سنگت حیر بیار مری کے کردار کے حوالے سے ہے) اب اگر ابتداء اور تسلسل کو لیکر آج کے شور پر غور کریں۔ تو اس لیپا پوتی کا ذمہ دار کون ہوگا۔ جس سنگت حیر بیار کو میں جانتا ہوں، وہ میری تعریف کا ہرگز محتاج نہیں۔ مجھے افسوس اس عمل پہ ہو رہا ہے کہ تاریخ کے ساتھ ہی ساتھ ایک ایسے کردار کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ جس نے شروع دن سے اس قومی جہد میں بحیثیت رضا کار اپنا کردار ادا کیا ہے۔ 1994ء میری پہچان کی حد سے بھی پہلے ہلمند سے فعال و جاندار کردار ہمیشہ متحرک رہا۔ جس نے مجھ سمیت میر غفارشہید ، سگار بلوچ شہید امیر بخش لانگو اور بہت سے نوجوانوں کو قومی تحریک میں ایک بہتر کردار ادا کرنے کیلئے ایک سیاسی متوازن سلیقہ اپنانے کیلئے ایک زاویہ نظر دیا۔ میں نے دوران وزارت بھی ان کو چند دوستوں سمیت سریاب کے قبرستانوں ، چلتن کے دامن اور میاں غنڈی کے میدانوں میں راتوں کو کھڈے کھودتے ہوئے پایا۔ قومی اثاثوں کو دشمن سے چھپاتے ہوئے ہر وقت فکر مند پایا۔ (انہی اثاثوں (مڈی) سے آج کے مشکل
حالات میں بلوچ نوجوانوں کو حیر بیار مری کا گروپ قرار دے کر محروم کرنا زیر بحث نہیں) شروع سے آج تک قومی تحریک میں مجتمع قوت کو اداروں کی طرف منتقل کرنے کیلئے شخصیت پرستی اور گروہ بندی کی مکمل حو صلہ شکنی کیلئے عملی طور متحرک پایا۔ اس کے اپنے کردار کے حوالے سے ایک جاندار کردار ادا کرنے کے باوجود اس کردار کو مخفی رکھنا اسی سوچ کی عکاس ہے۔ جن مواقعوں سے میں گزرا، ان میں بی این ایم اور بی آر پی جیسے ایک پارٹی کی تشکیل کیلئے بہت سے ساز گار حالات میسر آئے، بہت سے نظریاتی ساتھیوں کی موجودگی کے باوجود اس گروہی سیاسی عمل سے اجتناب برتا گیا۔ اور سیاسی دوستوں کو (بی این ایم و بی آر پی) ہر قسم کے حالات میں موقع فراہم کیا گیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو اجتماعی سوچ کے حوالے سے بہتر ، مضبوط اور پختہ کرتے جائیں۔ مگر بد قسمتی سے پچھلے تمام عرصے میں جو کچھ یہاں ہوتا آ رہا ہے۔ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، میں کسی اور سے نہیں جتنے ذمہ دار حلقے ہیں، ان سے درخواست کرتا ہوں، وہ بلوچ لیڈر شپ اور ان تمام کے گروپس کا ایماندارانہ احاطہ کریں۔ ان کا آپس میں تقابلی جائزہ ان کے کردار کے حوالے سے قابلیت ، خلوص ، صلاحیت، فیصلہ کرنے کی بروقت قوت کے حوالے سے ،اور اس کے علاوہ ایک اور تقابلی جائزہ علمی حوالے سے انقلابی لیڈر شپ کے صفات سے اور سوئم بین الاقوامی تاریخی لیڈر شپ کے حوالے سے ( اختر ندیم کا لفاظی اور خود فریبی کو لیکر نواب مری کیلئے بلوچوں کا عمر مختیار لکھنا زیر بحث نہیں) میری ناقص رائے یہ ہے کہ ان حالات کو بہتری کی طرف لانے کیلئے سب سے ضروری عمل یہ ہوگا، کہ ہم ایک رضا کار سے لیکر نواب خیر بخش مری تک کے عمل کا ایک مرتبہ ایمانداری سے احاطہ کریں۔ اور رضا کار سے لیکر لیڈر شپ کے عمل و علم و صلاحیت و قابلیت خلوص و کردار و کار کردگی کو قومی تحریک کو نقطہ مرکز بنا کر اس سے جانچ پرکھ کے بعد سیاسی عمل میں توازن پیدا کریں۔ کیوں کہ گروہی سیاست کے حوالے سے ذاتی و خاندانی و گروہی مفادات نے اور علاقائی و قبائلی سوچ کے تحت کشمکش اور ساتھ ہی ساتھ نیم پختہ سیاسی طرز عمل نے آج کے حالات پر ایک بہت ہی گہرا منفی اثر چھوڑا ہے۔ ان خاندانی ذاتی
علاقائی و قبائلی تعلقات نے جس مجرمانہ طرز عمل کو تقویت دی ہے۔ (بی ایل ایف، بی این ایم کا قومی سیاست کو لیکر نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے یکساں متضاد و منفی اعمال پر دونوں کیلئے مختلف رویہ رکھنا ، نیشنل پارٹی گناہ گار و غدار اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل پہ مصلحت پسندی کا شکار ہونا زیر غور ہو) اس طرح کے متضاد رویوں نے سیاسی عمل کو مکمل بگاڑ دیا ہے۔ جلد از جلد حقائق کا سامنا ہو تو بہتر ہے۔ الزامات ایک دوسرے کے سر تھونپنے سے مسائل مزید پیچیدہ ہونگے، نا کہ حل کی طرف کوئی بہتر نتیجہ دینگے۔ ہمیں کوئی جو نام بھی دے، ہم اپنا کردار اس نقطہ نظر کے ساتھ ادا کرتے رہیں گے کہ تمام قوتیں توازن کے ساتھ تحریک کو آگے بڑھائیں۔ تاکہ وہ روایتی ، سماجی ٹوٹ پھوٹ جو انقلابی عمل کے دوران آج ہمیں درپیش ہے اس کے اگلے ترتیب کیلئے یعنی تشکیل کیلئے سیاسی عمل کے نتائج میں حقیقی توازن کو لیکر شخصیات کے کردار کے حوالے سے پارٹیوں اور تنظیموں کے کردار کے حوالے سے حقیقی توازن کیلئے (اختر ندیم کا بی ایس او کیلئے ثناء خوانی زیر بحث نہیں) لازمی دور اندیشی ، معاملہ فہمی اور ذہانت کو لیکر اجتماعی پالیسیوں بابت ہر چھوٹے بڑے عمل کے نتائج کو لیکر ان کو اگلی سطح کیلئے بروئے کار لایا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ ان نتائج کے بل بوتے پر شخصی بت تراشی گروہی مصنوعی بڑھوتری کیلئے غیر اخلاقی حربے سیاسی گروہی فوائد کیلئے گروہی کشمکش میں اجتماعی اصولوں کو تہہ و بالا کرنے جیسے مجرمانہ حرکتیں کی جائیں۔ ان حالات میں جہاں طرز عمل ایسے غیر اخلاقی رویوں
پر استوار ہوں، اتحاد گمراہ کن نعرہ ہوگا۔ دوستوں کیلئے نیک خوائشات کے ساتھ ہم ایک نظریاتی قوت کے حصول کیلئے جدو جہد کریں گے۔ جو قومی تحریک میں دشمن کے مقابلے کے ساتھ ہی ساتھ ایسے دوستوں کیلئے ایک بہتر اپوزیشن کی صورت میں موجود رہے، جو کم سے کم آزادی پسند سیاسی کارکنان کیلئے علمی حوالے سے پیچیدہ اور پوشیدہ مسائل کی بہتر تشریح کیلئے تحقیق کر سکیں۔ امید ہے ہمارے ہر عمل اور پالیسیوں پر ہمارے مہربان دوست کسی بھی نقطہ نظر سے تنقید کریں۔ ہم تشریح کیلئے تیار ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ جھوٹ اور من گھڑت قصے کہانیوں کے ذریعئے کردار کشی کو لیکر چپ کرانے کے حربے استعمال نہیں ہونگے۔ اگر ایسا ہوگا۔ تو ہمارے صفائی کے دلیل کیلئے مزید بہت سے حقائق جن سے بہت سے راز بھی وابستہ ہیں، باحالت مجبوری آزادی پسند کار کنان کے معلومات کیلئے ان کے سامنے ہونگے۔ میں کوشش کرونگا کہ اپنے اگلے مضمون میں کچھ ایسے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات جن کو بطور سوال اٹھایا گیا ہے، ایسے حادثات جن سے کچھ راز وابستہ تھے، جو شاید اب نہیں رہے، جن میں شہید سگار بلوچ کا روڈ ایکسیڈنٹ ، ٹکری حمل خان کا حادثاتی شہادت اور شہید علی شیر کرد کے کردار کے متعلق ایسے حقائق جن کی پوشیدگی کو ہماری کمزوری جان کر کچھ ایسے سوالات اٹھائے گئے، جن کو میں سیاسی حربوں کے طور پر لونگا۔ ان کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ کسی دوست نے کہا کہ مجھ پر ایک اور الزام یہ ہے کہ میں نے تنظیم کی بھاری رقم چوری کرکے کچھ عرصے دالبندین میں روپوشی اختیار کرلی۔ اور پیسے ختم ہونے پر دوبارہ معافی مانگ کر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔ میری ناقص رائے کے مطابق اس الزام کو ثابت ہو نے کیلئے الزام لگانے والے کو ثبوت کی ضرورت ہوگی۔ کب ،کیسے اور کہاں، میری صفائی کیلئے میرا تنظیمی ریکارڈ موجود ہے۔ اس تنظیم سے تعلق رکھنے والے بہت سے بلوچ نوجوان موجود ہیں۔ خیر یہ تو سیاست کے نیچ اور غلیظ داؤ پیچ ہیں ۔جن کو اسی ذہنی سطح سے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہیں۔ کسی رضا کار کیلئے یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یاد رکھنے والی بات یہ کہ ہمارے حلقے نے جس مقام و سطح سے غیر متوازن ، متضاد اور منفی عوامل کو متحرک اور سرگرم عمل دیکھ کر ان کی نشاندہی کی ہے، چاہے وہ شخصیات کے عمل سے تعلق رکھتے ہوں یا مختلف گروپس کے کردار سے، ان کی روک تھام کیلئے اصولی موقف کو لیکر ہم نے جو کوششیں کیں انہی کوششوں کی وجہ سے ایسے شرمناک حالات سے گزرے ہیں، ہمارے لئے جس کا تصور بھی نا ممکن تھا۔ جسے کم و بیش سیاسی آزادی پسند کارکنان کی اکثریت نے محسوس کیا ہوگا۔ مستقبل میں بھی اپنے اصولی موقف سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کیوں کہ یہ ہمارے جدوجہد کا علمی ، فکری ، نظریاتی تقاضا ہے کہ ہم اجتماعی تقاضوں کو لیکر کسی بھی سطح پر مصلحت پسندی کا شکار نہ ہوں ۔

 

 

 

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>