Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Feb 6, 2014 in Articles | 0 comments

جنگ آزادی اور شہید انقلاب بالاچ مری – شیر حان بلوچ

 

بیرونی سامراج اور قبضہ گیروں کے خلاف بلوچ قومی جہد آزادی کیلئے گوریلا جنگ آج سے نہیں بلکہ اٹھارویں صدی کے اوائل سے برطانوی انگریز کے نو آبادیاتی نظام کے خلاف 1838ء سے لڑی جارہی ہے۔ بلوچ سرزمین پر بیرونی حملہ آور برطانوی سامراجیت کے خلاف گوریلا جنگ کی ابتداء میر محراب خان شہید نے کی۔ جنہوں نے اپنی مٹھی بھر سربازوں کے ساتھ برطانوی حملہ آوروں کے خلاف جو ہزاروں میں تھے جوان مردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کی۔ میر محراب خان کی شہادت کے بعد بلوچ قوم میں بیرونی حملہ آور وں کے خلاف جنگ کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا جن میں نواب خان جان زرکزئی، سردار نوردین مینگل، سردار جیئند خان، اور ایرانی بلوچستان میں داداشاہ جیسے عظیم انقلابیوں کے نام شامل ہیں انکے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں بلوچ گمنام شہدا ء کے نام ہیں جنہوں نے مادروطن کی آزادی کیلئے بیرونی سامراج کیخلاف اپنی قیمتی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔ کئی دہائیوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد آخر 11اگست 1947کو بلوچستان آزاد ہوا۔نو ماہ سات دن آزاد رہنے کے بعد عالمی سامراجیت کے کٹ پتلی ریاست نے بلوچ قوم کی آزادی کو غضب کرکے 27مارچ 1948کو مادر وطن پر یلغار کرکے یہاں پر اپنا جھنڈا لہرایا۔
برطانوی غلام کے خلاف سب سے پہلے شہزادہ عبدالکریم خان نے علم بغاوت بلند کرکے اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں پر جاکر گوریلا جنگ شروع کی۔مزاکرات کے نام پر دھوکے سے خان عبدالکریم خان کی اس بغاوت کو کچل کر ریاست نے خان صاحب اور انکے ساتھیوں کو قید وبند کی سزائیں دیں۔
اس کے بعد نواب نوروز خان نے بلوچستان کی آجوئی کیلئے مادر وطن کی پہاڑوں کا رخ کیا۔قابض ریاست کو اتنا نقصان پہنچا یا کہ اس نے حواس باختہ ہوکر قرآن پاک کا وسطہ دے کر نواب نوروز خان کو ساتھیوں سمیت پہاڑوں سے اتارا اور انکے پانچ بیٹوں سمیت ساتھ کمانڈروں کو پھانسی اور نواب نورز خان کو کئی ساتھیوں سمیت قید کرلیا۔نواب نوروز خان کی سکھر جیل میں شہادت کے بعدریاست یہ سمجھ گیا کہ اس نے بلوچ قوم کی جنگ آزادی کو ختم کردیا۔لیکن 1950ء، 1960ء اور 70ء کی دہائیوں میں بھی مسلح جدوجہد جاری رہی۔ 1973ء میں بھٹو کی کالی جمہوریت کے دور میں جب بلوچ قوم کی مسلح جدوجہد جاری تھی۔تب بھٹو نے بلو چ قوم پر پھر فوج کشی کا حکم دیا اس بلوچ نسل کشی میں باقائدہ ایران سے گن شپ ہیلی کاپٹر منگوائے گئے۔ گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بلوچ قوم پر فضائی بمباری کی گئی۔ اعداد وشمار کے مطابق 2000بلوچوں کو شہیداور انکے مال موشیوں کو فوجیوں کا خوراک بنایاگیا۔ بلوچوں کے گھرگدانوں کو نظرآتش کیاگیا۔اس فوج کشی کا زور زیادہ تر مری قبیلے پر تھا۔اس ظلم اور بربریت کی وجہ سے نواب خیربخش مری کی سربراہی میں مری قبیلہ اور دیگر بلوچ افغانستان جلاوطن ہونے پر مجبور ہوگئے۔20سالوں کی طویل جلاوطنی کے بعدمری قبیلہ اور دیگر بلوچ قبائل واپس بلوچستان لوٹ آئے۔
ایک بار پھر بلوچ مزحمتی جنگ نے سر اٹھایا اس بار ساٹھ سالوں کی ناکامیوں کو مدنظر رکھ کر سردار خیربخش مری نے جنگ کو قبیلہ تک رکھنے کی پالیسی ترک کرکے بلوچ قومی جہد کی طرف سب کی توجہ مبذول کرائی۔2002ء میں پارلیمنٹ کو ٹشوپیپر کہہ کر شہید انقلاب بالاچ مری نے بلوچ قومی آزادی کیلئے مری قبیلے کے ہمراہ مادر وطن کی پہاڑوں کا رخ کیا۔شہید انقلاب یہ بات ا چھی طرح جانتے تھے کہ صرف ایک قبیلہ اس قابض کو شکست نہیں دے سکتی اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے مری بگٹی کی دیرینہ خون ریزی کا تصفیہ کرایا اور نواب بگٹی اور چار جماعتی اتحاد کے سامنے ریاست کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے کہاکہ”مادر وطن بلوچستان جانوں کی قربانی مانگ رہا ہے۔“15دسمبر 2005ء کو جب بلوچستان پر پانچواں فوجی آپریشن کا آغاز ہوا۔ شہید انقلاب بالاچ مری نے نواب بگٹی کو جنگ آزادی کیلئے آمادہ کرکے سرزمین بلوچستان کی سنگلاخ پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا اورقبضہ گیر ریاست کیخلاف آزادی کی جنگ شروع کی۔ اس دوران دوسرے بلوچ قبائل بھی وقتاً فوقتا ًجنگ آزادی کا حصہ بنتے رہے۔26اگست 2006ء کو ڈاڈائے قوم نواب محمد اکبرخان بگٹی کو ریاست کی افواج نے تراتانی کی پہاڑوں میں جیٹ طیاروں، اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گھیرکر شہید کیا۔ڈاڈا ئے قوم کی شہادت نے پوری قوم کو خواب غفلت سے بیدار کیا پوری بلوچ قوم یک مشت ہوکر جنگ آزادی میں کھود پڑا۔یہ جنگ سپہ سالار بالاچ مری،براہمدغ بگٹی اوردیگر بلوچ سرکردہ لیڈروں کی سربراہی میں جاری تھی۔ بلوچ قوم کے چی گویرا سردارزادہ بالاچ مری نے نہ صرف بلوچ مزحمتی جنگ کو سائنسی بنیادوں پر اجاگر کیا بلکہ بلوچ قومی انقلابی پارٹی کی طرف بھی زور دیا۔انہوں نے اپنے انٹرویوز میں بلوچ قوم پر ہونے والے مظالم، معادنی وسائل کی لوٹ ما ر، بلوچ نوجوانوں کی ریاستی عقوبت خانوں میں ظلم و زیادتی اور شہادت،مادر وطن کی قبضہ گیریت کے خلاف بین الاقوامی میڈیا اوراقوام متحدہ کی توجہ مبذول کرانے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہے۔ شہید انقلاب بالاچ مری اپنی مخلصانہ جدوجہد کی وجہ سے بلوچ قوم کے ہیرو اور نوجوانوں کے آئیڈیل بن گے تھے۔
انہوں نے اپنی ایک انٹرویومیں کہا کہ ہوسکتاہے کہ ہم آزادبلوچستان کو اپنی انکھوں سے نہ دیکھ سکیں لیکن مجھے یقین ہے کہ ہماری آ نے والی نسلوں کا مستقبل روشن اور وہ ضرور اس دھرتی پر آزادی اور سکھ کا سانس لیں گے۔
شہید کمانڈر بالاچ مری نے ایک اور جگہ پر کہا۔جس راہ پر میں چلا ہوں اس راہ سے واپسی نہیں ہوتی۔میرے پاس ون وے ٹکٹ ہے۔ہماری جدوجہد اور قربانیاں آ نے والی نسلوں کی آزادی اور خوش حالی کی ضامن ہیں۔کچھ ایسے ہی الفاظ ہندوستان کے انقلابی ہیرو نو جوان بھگت سنگھ کے بھی تھے۔جب اس نے دہلی کے اسمبلی بم کیس میں گرفتاری دینے کے بعد کہے تھے۔
بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی باتو کشور دت نے 8 اپریل 1929 ء میں دہلی کے مرکزی قانون ساز اسمبلی میں بم پھینکنے کے بعد گرفتاری دی۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ انگریز سرکار نے ہمارے کیس کا فیصلہ پہلے سے کر رکھا ہے جو پھانسی ہے۔مجھے اس دن کا بڑی بے صبری سے انتظار ہے۔جب میں یہ انعام پاؤں گا۔میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ انعام مل رہا ہے۔یہ وطن سے محبت کرنے والے کیلئے سب سے بڑا انعام ہے۔ میرے دشمن مجھے مار سکتے ہیں لیکن میرے فکر اور نظریات کو نہیں مار سکتے۔وہ میرے جسم کو کچل سکتے ہیں لیکن وہ اس قابل نہیں کہ میرے روح کو کچل سکیں۔میرے نظریات ایک بلا کی طرح ہمیں غلام بنانے والے برطانویوں کا پیچھا کریں گے۔یہاں تک کہ وہ یہاں سے بھا گ جائیں۔
مردہ بھگت سنگھ غلام بنانے والے برطانویوں کیلئے زندہ بھگت سنگھ سے زیادہ خطرناک ہوگا۔مجھے پھانسی پر چڑھانے کے بعد میرے انقلابی نظریات کی خوشبو ہماری پیاری سرزمین کی فضاء میں جاری و ساری رہے گا۔آزادی اور انقلاب کیلئے میری موت جوانوں کو مست کر دے گااور پھر یہ برطانوی سامراجیوں کی تباہی قریب تر لے آئے گی یہ میرا پختہ یقین ہے۔
جس بے چینی کے ساتھ اس دن کا انتظار کر رہا ہوں۔جب میں اپنی خدما ت اور لوگوں سے محبت کے صلے میں یہ سب سے بڑا انعام پاؤ نگا۔
ہندوستان کی جنگ آزادی کے ہیرو بھگت سنگھ اور ہمارے آئیڈیل لیڈر بالاچ مری کے جنگ کے طریقے اور جنگی میدان بالکل الگ الگ تھے۔ان دونوں میں یکساں صرف یہ تھاکہ یہ دونوں بیرونی قبضہ گیرکے خلا ف اپنے قوم کی آ زادی کیلئے جنگ کر رہے تھے۔ان دونوں کو اپنی نظریات اور فکر پر پورا پورا بھروسہ تھا جس پر وہ آخری دم تک ڈٹے رہے۔
جس طرح بھگت سنگھ کو یقین تھاکہ میری شہادت اور انقلاب زندہ باد کا نعرہ ہندوستان کے نوجوانوں کو مست کر دے گا۔وہ بیرونی حملہ آور کے خلاف جنگ میں کود پڑیں گے اور اپنی آزادی حاصل کر لیں گے۔بالکل اسی طرح شہید کمانڈر بالاچ مری کو بھی بلوچ قومی آزادی پر پورا پورا یقین تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم ان تاریک راہوں میں شہید کر بھی دیے جائیں تب بھی بلوچ نوجوان آزادی ضرور حاصل کر لیں گے۔اسلئے کہ مادروطن بلوچستان کا سینہ دشمن کے ایٹم بم سہہ سکتا ہے لیکن بلوچ نوجوان غلامی کی زندگی برداشت نہیں کر سکتے۔شہید کمانڈر بالاچ مری کی جدوجہد جاری تھی کہ ہماری بد قسمتی سے بلوچستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے سر لٹھ کے مقام پر دشمن کے ساتھ ایک معرکے میں ان کو شہید کر دیا گیا۔بلوچ قوم میں کو ئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ بالاچ مری شہید کر دیے گئے۔جب تک کہ بلوچ مزاحمتی تنظیم BLAکے سر مچاروں نے نامعلوم مقام سے BBCURDUکے نمائندے کو فون کر کے تصدیق کردی۔
تیری جدائی کے آنسو آج بھی ہمارے آنکھوں میں مہماں ہیں ……………..مگر یہ آزادی کا جنگ ہے قربانیاں پہلے بھی دیں تھیں اب بھی دینے ہیں۔

 

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>