Pages Menu
TwitterRssFacebook
Categories Menu

Posted by on Feb 6, 2014 in Articles | 0 comments

جیالاپن کی سونامی کوروکیے! جورَک یاگی

قومی انقلابی تحریکوں میں ہیروازم مہلک رویوں کی جڑتوہوتاہی ہے لیکن جب ہیروازم پر علمیت اوراستدلال کی لیپاپوتی کی کوششیں بھی ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ وبا اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے اوراب مصلحت کی بندشوں کوتوڑتے ہوئے،سست رواورمرحلہ وارسدباب کے بجائے فوری اورزوداثرعلاج کی ضرورت ہے۔ہیروازم کے فکرگریزماحول میں گہری تربیت اورکٹھن ریاضت کے مستند اصول ہوامیں تحلیل ہوجاتے ہیں اورانکی جگہ سطحیت پسندی اورتن آسانی لیتی ہیں۔نظریہ،وژن سے زیادہ،درجہ بہ درجہ ملنے والی کامیابیوں سے وجودمیں آنے والی طاقت کی مِتھ (Myth)میں کشش پیداہوجاتی ہے۔کارکن ”متاثر“ہونے کے بجائے”مرعوب“ہونے لگتے ہیں۔ بلوچ قومی تحریک میں 2009کے بعدسے پیداہونیوالے داخلی حالات ایسی ہی پیچیدگیوں کامظہرہیں۔انتظامی اختلاف آراء کومعقول انقلابی طریقہ ہائے کارکیساتھ برتنے کے بجائے خودرواندازمیں نموپانے کیلئے چھوڑدیاگیا۔ادارہ جاتی مباحثوں کوسنجیدہ حلقوں کی جانب منتقل کیئے جانے کے بجائے دانستہ ہُلڑبازوں کیلئے جنسِ بازاربنادیاگیااوراس سے کچھ دوستوں کودفاعی پوزیشن پرلے جانے کی کوششیں ہونے لگیں۔وضاحت کرنے والوں کیلئے ان لوگوں کے تزویراتی زنبیل میں قومی رازوں کے افشاکے دفعات پہلے سے محفوظ تھے جنہیں اب ہرایراغیرابے دھڑک استعمال کررہاہے۔”اختلاف رائے پیداہوناعین فطری عمل ہے“، اس حقیقت کی جڑیں خارزارسیاست میں قدم رکھتے ہی ہمارے ذہن میں پیوست کرائی گئی تھیں۔لیکن اختلاف آراء کی کوکھ سے منظم اندازمیں مخصوص تضادات پیداکرواناصرف اورصرف ضرررساں مقابلہ بازی کی خواہش کی تسکین ہوسکتی ہے اورکچھ نہیں۔شایدایسے حالات کوکچھ لوگ اپنی تصنع سے بھرپور افسانوی انفرادیت کے پھلنے پھولنے کیلئے Fertilizer(کھاد)کے طورپراستعمال کرتے ہوں۔جب ایسے حالات تحریک پر حاوی ہونے لگتے ہیں توکارکن کے بجائے’مرید‘ پیداہونے لگتے ہیں۔کامریڈزکی جگہ ’جیالے‘لے لیتے ہیں۔کچھ قلم والوں (شعراء اورلکھاری۔۔۔دانشورنہیں)کوبھی جیالے پن کاچسکاپڑجاتاہے۔نتیجتاََ الفاظ،اصطلاحات،اصول،حقائق،زمانی ومکانی حالات کی تشریح و توضیح کی باگیں اپنے من چاہے ڈگرکی طرف موڑناہربچے کے بائیں ہاتھ کاکھیل بن جاتاہے۔دوآنکھوں کوقطعاََدوجداجدامیکنزم کے حامل اعضاء ثابت کرنے کیلئے اس طرح دلائل کے پہاڑکھڑے کیئے جاتے ہیں کہ ایک عام ذہن لفظوں کی اس شعبدہ بازی پریقین کرنے کیلئے مجبورہوجاتاہے۔تب تین جمع دوپانچ نہیں بلکہ تین ہی ہوتے ہیں۔ایک جہدکارکی شہادت کوتوشہادت تسلیم کیاجاتاہے لیکن دوسرے جہدکارکی شہادت اسکی قیادت کی غلط پالیسیوں کامنطقی نتیجہ قرارپاتاہے۔ایک رہنماکی قربانی کی شان میں سب رطب اللسان لیکن دوسرے رہنما کے گردشک کا دائرہ کھینچ لیا جاتاہے کہ وہ اپنی قربانیوں کوجوازبناکرتحریک کونقصان پہنچانے کے درپے ہے۔پہاڑوں پربسیراکرنے والے سب کے سب معتبرلیکن ماسٹرسلیم جلیس کاذکرآتے ہی تبرک کوتشکیک میں بدلنے کی کوششیں ہونے لگتی ہیں۔ماسٹرستارکی ٹارچرسیل یاتراکوذہنوں سے محوکرنے کیلئے کیاکیاراگ نہیں الاپے جاتے۔حالانکہ یہ دوست ابھی تک میدان میں موجودہیں۔شہیدغلام محمدکی گرفتاری کوبڑے سردارمینگل اورانکاچہیتابیٹااپنے حلقہ اثرمیں ٹوپی ڈرامہ اوررہائی کوڈیل کانتیجہ کہنے میں ذرہ برابرعارمحسوس نہیں کرتے تھے۔شہیدغلام محمدکی شہادت تک وہ اسی دعوے پرٹکے رہے۔کیاہُلڑبازگروہ اور انکے پیرومرشد(لیڈرنہیں)دوسروں کی قربانیوں کی ہتک وبے توقیری کوپروان چڑھاکررویوں کے ضمن میں مینگل سردار کے حلقہ ارادت میں شامل نہیں ہوگئے؟(جاویدمینگل سے قربت بذریعہ حمل حیدراینڈکمپنی کومدنظررکھاجائے۔انکے رویوں کواپنے وجودکاحصہ بناکرشایدوہ دوستی کا ثبوت فراہم کررہے ہوں!)۔ہمیں اب اس خودفریبی کے حصارسے نکلناچاہیئے کہ فیس بک کے مچھلی بازارمیں جیالوں کایہ ہجوم جواپنے ہی وجودکوچھیلنے کاٹنے کیلئے بدگمانیوں کی چھریاں چاقوتیزکررہاہے،ہذیانی کیفیت میں سینئردوستوں پردانشورانہ پھبتیاں کس رہا ہے،اس تمام صورتحال سے انکے پیرومرشد بے خبراوربری الذمہ ہوں۔چارٹرآف لبریشن کوبحث بننے سے پہلے جس طرح گروہی پینترابازی کے ذریعے کھڈّے لائن لگادیاگیا وہ ہماری اندرونی کشمکش کی بوقلمونی تاریخ کا ایک حصہ بن چکاہے۔حالانکہ ہوناتویہ چاہیئے تھا کہ بالغ ادارہ جاتی مباحثے یاشفاف بنیادوں پرقومی اتفاق رائے سے اسکوقومیانے یاخارج کرنے کا فیصلہ کیاجاتا۔تاکہ قوم کوشعوری طورپرپتہ ہوتاکہ اس کوقومی دستاویزکی حیثیت کیوں حاصل ہوگئی یا یہ کیوں قومی دستاویزکے درجے پرفائزنہ ہوسکا۔لیکن اس کے برعکس درباری پرچہ نویسوں (دانشورنہیں)نے تحریک کے عام سپورٹرکے ذہن کواس ایشوتک پہنچنے سے روکنے کیلئے ’توجہ ہٹاؤپالیسی‘اپنائی۔بین الاقوامی سفارتکاری پروارکرکے اسے تحریک کیلئے شجرممنوعہ قراردینے کیلئے ایڑی چوٹی کازورلگنے لگا۔قومی تحریک کے اس اہم اوربارآورسیکشن کونہ صرف عضوئے ناکارہ شمارکیاجانے لگابلکہ اسے سرے سے ایک سازش ثابت کرنے پرتوانائیاں صرف کی جانے لگیں۔اچانک ہی ”قوم کے اندرموجود“اور”سرزمین سے باہر“ جیسے جملوں کاگردان ہونے لگا۔سبھاش چندربوس کی ہندوستانی تحریک کیلئے بین الاقوامی لابنگ کی ناکامی اوربھگت سنگھ کی گوریلاجدوجہدکاتذکرہ چھیڑکرایک عام قاری کوقومی تحریک کے معروضی حالات کوان نکات کی روشنی میں دیکھنے کی ترغیب دی گئی۔سوشل میڈیامیں سردارزادگی اورغریب زادگی کی کھینچاتانی شروع کرکے پروجیکشن اورہمدردی بٹورنے کی بھونڈی روایت کی بناڈالی گئی۔حالانکہ کسی انسان کابالائی طبقے کے کسی گھرانے میں آنکھ کھولنایاغریب کے گھرمیں پیداہونااس کے کردارکاتعین نہیں کرتا۔تحریک کاحصہ بننے کے بعدکوئی اپنے انفرادی رویوں کوکس حدتک اجتماعی تقاضوں کے تابع بناپاتاہے،یہ اصل موضوع ہے۔محض سردار کابیٹاہوناہی مستردکیئے جانے کی توجہیہ ٹھہرتی ہے تواس بات سے اتنے طویل عرصے تک کیوں آنکھیں موندھ لی گئی تھیں؟حقیقت یہ ہے کہ علمی محاذپرگم گشتہ اوردلائل سے تہی دست ہونے کے بعدسردارزادگی کی بحث کو”ترپ چال“کی طرح استعمال کیاگیاجوابھی تک جاری ہے۔دوسروں کوسردارزادگی کے نام پردھتکارکر، قومی پذیرائی کی وجہ سے اپنے رویوں میں آئی ہوئی سرداریت،خانیت بلکہ شہنشاہیت کے خمارکوزیادہ دیرتک نہیں چھپایاجاسکتا۔نہ صرف اپنے زیراثراداروں میں غلام پسندی کے رجحان پالنابلکہ پراسرارطورپر قوم دشمن سرداروں کوآزادی سے اپنارعب ودبدبہ قائم رکھنے دینااب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔بات جب مکران کی ہوتو”خانہ جنگی کوخوش آمدیدکہتے ہیں“لیکن علی حیدرمحمدحسنی کوہینڈل کرتے وقت یہ پالیسی غیرمتعلق بن جاتی ہے اور اس کی جگہ پرامن بقائے باہمی کی پالیسی کاجادوسرچڑھ کربولنے لگتاہے۔جب صرف نمائشی طورطریقوں سے بلحاظ حجم دوسرے ہم فکروں پر حاوی ہوناہی مطمح نظرٹھہرتاہے تب دھڑادھڑبھرتی ہی واحداورقطعی اصول کے طورپرابھرتی ہے۔ذیلی اداروں پرگرفت چاہتے ہوئے بھی نہیں ہوپاتی۔ممبرزکوہاتھ سے نہ جانے دینے کے چکرمیں تحریک کے وقاراورگوریلاوارفیئرکے بندھے ٹکے قوانین کادھڑن تختہ کیاجاتاہے۔ورکرزکی خودسرانہ حرکتوں پرنظریاتی ملمع کاری کرنے کیلئے شاعرانہ تُکبندیوں کاسہارالیاجاتاہے۔ذرائع ابلاغ میں ”ماں کے پیٹ سے کوئی مجرم پیدانہیں ہوتا“جیسے ’کام چلاؤ‘جملوں سے دشمن کوجواب دیکرخودکواورقوم کو مطمئن رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قومی تحریکوں میں حالات اور رجحانات کیلئے راہ ہموارکرنے والی اولین صف میں ہمیشہ چندگنے چنے افرادہی ہوتے ہیں جومسئلے کومردِبیمارکی بڑبڑاہٹ بنے رہنے کے بجائے عمل کی چھتری تلے لاتے ہیں۔کوئی لاکھ ٹاپاکرے لیکن یہی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ سنگت حیربیاراورانکی ٹیم اسی زمرے میں آتے ہیں۔جنہوں نے نہ صرف فکری رجحانات کے تعین کرنے کیلئے عرقریزی سے کام کیابلکہ دستیاب وسائل کودستبردزمانہ سے بچاکرمحفوظ ہاتھوں میں دیااور طویل المیعادحکمت عملی وضع کرکے کام کا آغاز کیا۔جدوجہد کے اسی سلسلے کے وسائل اورتکنیکی معاونت سے استفادہ کرکے اپنی بنیادیں استوارکرنے والے اگر انہی دوستوں کوIsolateکرنے کیلئے گٹھ جوڑمیں لگ جائیں تویہ فکری دیوالیہ پن کے علاوہ اورکیاہوسکتاہے؟عوامی سیاسی محاذکی اگربات کی جائے تو27مارچ،11اگست ہماری تاریخ کے مطالعے میں محض دوواقعے کی حیثیت رکھتے تھے جن پرہماری مخصوص کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے نظرپڑتی تھی یامحدودحلقوں میں ان واقعات کا تذکرہ کیاجاتاتھا۔لیکن دوستوں کی یہی ٹیم تھی جنہوں نے ان تاریخوں کو کتابوں میں قید رکھنے کے بجائے متحرک اجتماعی احساس کاحصہ بنایااوران کوقومی سطح پریوم سیاہ اوربلوچ ریاست کی برطانوی سامراج سے آزادی کے دن کے طورپرمنانے کی حوصلہ افزائی کی جسے سب نے قبول کیا۔لیکن بعدمیں جب 13نومبر(سقوط بلوچ وفاق کادن)کوبطوراجتماعی یوم شہداء منانے کی تجویزسامنے آئی تواسکی جامعیت اوروسیع ترین تاریخی حیثیت کونظراندازکرکے اس کوسختی سے ردکیاگیا۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ مریدوں،جیالوں اوردرباری پرچہ نویسوں کی جلومیں دوسروں پرسنگباری کرنے کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اپنے رویوں میں نکھارپیداکیاجائے۔تحریک کے سامنے سب قابل گرفت اورجوابدہ ہیں لیکن گروہی سازش ہرگزقابل قبول نہیں ہوسکتے۔تنقیدکاگھیراتوڑنے کیلئے افشائے رازکے دفعہ کوبلیک میلنگ کے طورپراستعمال کرنااورعام سپورٹر کواشتعال دلانے کی کوشش کرناکسی طرح جائزعمل نہیں کہلائے جاسکتے۔افشائے رازکے حدودکاتعین کرنے کیلئے ہرکس وناکس،فیس بکی پہلوانوں اورریموٹ کنٹرول لکھاریوں کوکھلی چھوٹ دیکربالائی قومی اداروں کے فیصلہ کن کردار کے ساتھ سنگین مذاق بندکیاجائے تویہ بلوچ قومی تحریک کیلئے احسان عظیم ہوگا۔اگرکوئی یہ کہے کہ فلاں تنظیم کن حالات میں وجودمیں آئی اورکونسی تنظیم اس کے بعد تشکیل پاگئی اوردوران بحث ان ساتھیوں کاذکرکرے جوسوشل لائف کے جھمیلوں میں نہیں بلکہ محاذ پر ہیں اورجن کے نام مشتہرہوچکے ہوں (یااپنے ہی طے شدہ پروگرام کے تحت مشتہرکرائے گئے ہوں)تواسے قومی رازوں کامنظرعام پر لانانہیں کہاجاسکتا۔گوریلاجنگی نظم ونسق کے مطابق عسکری یونٹس کے لوکیشن،وسائل کے منبع،مخصوص روٹس،نظام ترسیل،شہری نیٹ ورک اورمستقبل کی گوریلاحکمت عملیاں ہی قطعی طورپر رازداریت کے دائرے میں آتی ہیں۔ان کے علاوہ اگرکوئی کسی بھی چیزکورازکہلانے پرمصرہوتاہے تویہ خواہ مخواہ کی سنسنی اوراشتعال پھیلانے کے سوااورکچھ نہیں ہوسکتا۔یہاں ہم ایک ہی لے میں گانے کے شائق گروہی لکھاریوں سے یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ مسلح جدوجہد اور بین الاقوامی سفارتکاری بلوچ قومی تحریک کے دومتفقہ علیہ سیکشن ہیں۔نیک نیتی کی بنیادپرحکمت عملیوں اورطریقہ کارپربحث ہوسکتی ہے لیکن محاذآرائی کی فضاپیداکرکے ان دونوں سیکشنزکوپاوربلاکس(Power Blocks)بناکرایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے کرنے کیلئے بیتاب ہوناکوئی قومی خدمت نہیں ہے۔اگراس عمل سے اجتناب کیاجائے توہولناک شکست وریخت سے بچاجاسکتا ہے اور عناصرمیں ترتیب وتوازن رہتاہے جوقومی تحریک کیلئے اشدضروری ہے۔ حروف اضافی:ماماقدیرکی قیادت میں اغواشدہ بلوچوں کے خاندانوں کا پیدل لانگ مارچ کوئٹہ سے کراچی کی جانب رواں دواں ہے۔ماماقدیربلوچ راجی جنزکے وہ درخشاں ستارہ ہیں جواپنے فرزند کی گولیوں سے چھلنی لاش کی صورت میں سرزمین کولہوکاخراج دینے کے بعدبھی بذات خودصبرآزماجدوجہدمیں کماحقہ‘ جذب ہوچکے ہیں۔کاش ہم اس لانگ مارچ کواجتماعی دردکا ولولہ انگیزمظاہرہ بناپاتے!لیکن بہرحال یہ کارواں اپنی قوم اورمہذب دنیاکے ضمیرپرپڑاؤڈالتاہواکراچی سے آگے بھی اپناسفرجاری رکھے گااوراس میں وسعت اوراسکی رفتارمیں شدت آتی جائیگی۔

Post a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>